ایف بی آر آرٹیکل 37اے اور 37بی کے کالے قانون کو مسترد کرتے ہین ، پائما
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (کامرس رپورٹر)پاکستان یارن مرچنٹس ایسوسی ایشن (پائما) کے چیئرمین ثاقب گڈ لک نے فنانس بل میں سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت شامل کیے گئے آرٹیکل 37 اے اور 37 بی کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قوانین تاجر برادری کو ہراساں کرنے کا ذریعہ بنیں گے جنہیں کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ ان آرٹیکلز کے ذریعے ایف بی آر کے ٹیکس افسران کو غیر معمولی اختیارات دینا سراسر غیر منصفانہ اور کاروبار دشمن اقدام ہے۔حکومت اگر ٹیکس ریونیو میں اضافہ چاہتی ہے تو اسے کاروبار کرنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہوگا نہ کہ کاروباری افراد کو خوف میں مبتلا کرنا۔ کاروبار چلے گا تو ٹیکس ملے گا اگر کاروبار بند ہوگیا تو حکومت ریونیو سے محروم رہ جائے گی۔ثاقب گڈ لک نے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال سے اپیل کی ہے کہ وہ آرٹیکل 37 اے اور 37 بی کو فوری طور پر واپس لیں اور تاجر برادری میں پھیلی بے چینی کو دور کریں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ قانون ہمیں پاکستانی شہری کے بجائے مجرم سمجھنے کے مترادف ہے اور ہمیں خدشہ ہے کہ اس کے ذریعے ایف بی آر کے افسران کاروباری افراد کو محض شک کی بنیاد پر ہراساں کریں گے جو کہ سراسر ناانصافی ہے۔چیئرمین پائما نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ایسے کالے قوانین کے بجائے معاشی ترقی اور کاروباری آسانی کی پالیسیوں کو فروغ دے تاکہ ملک میں کاروبار اور صنعتیں چلتی رہیں اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایف بی ا ر
پڑھیں:
رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے ٹیکسوں میں بڑی کمی اور فائلر کیلیےبڑے ریلیف کی تجاویز
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں رئیل اسٹیٹ کے شعبے کو متحرک کرنے اور تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ٹیکسوں میں بڑی کمی کرنے کی منصوبہ بندی مکمل کر لی ہے۔
ذرائع کے حوالے سے نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق فائلرز کے لیے غیر منقولہ جائیداد کی خریداری پر ٹیکس کی موجودہ شرح 1.5 فیصد سے کم کر کے صرف 0.25 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
اس کے ساتھ ہی جائیداد کی فروخت پر لاگو 4.5 فیصد ٹیکس کو بھی گھٹا کر 1.5 فیصد تک لانے کی سفارش سامنے آئی ہے۔
حکومت اس اہم پالیسی تبدیلی کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے، جہاں بین الاقوامی ادارے کی جانب سے ان تجاویز پر تحفظات اور مخالفت کا سامنا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے باوجود حکومتی سطح پر ان تجاویز کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
حکام کے مطابق ٹیکسوں کی شرح میں کمی سے پراپرٹی مارکیٹ میں مندی کا خاتمہ ہوگا اور کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آئے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، تعمیراتی شعبے میں روزگار بڑھے گا اور مجموعی طور پر قومی ٹیکس وصولیوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔