Daily Mumtaz:
2026-07-24@02:13:36 GMT

شاداب خان کے کندھے کی انجری سے متعلق اہم پیشرفت

اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT

شاداب خان کے کندھے کی انجری سے متعلق اہم پیشرفت

شاداب خان کے کندھے کی سرجری جمعہ کو لندن میں ہوگی، آل راؤنڈر بنگلا دیش اور ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز میں حصہ نہیں لے سکیں گے جبکہ ایشیا کپ میں بھی شرکت مشکوک ہے کیونکہ انھیں مکمل فٹ ہونے میں 6 سے 12 ہفتے لگ سکتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق شاداب خان کو دورہ نیوزی لینڈ اور پھر بنگلا دیش سے ہوم سیریز میں کپتان سلمان علی آغا کا نائب بنایا گیا تھا، پی ایس ایل میں ان کی زیر قیادت اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیم اعزاز کا دفاع نہیں کر سکی تھی۔

بنگلا دیش سے ہوم سیریز کے تین میچز میں انہوں نے 4 وکٹیں لیں اور 2 اننگز میں 55 رنز بنائے، اب رواں ماہ گرین شرٹس کو جوابی ٹور کرنا ہے، البتہ ٹیم کو اس میں شاداب کا ساتھ حاصل نہیں ہوگا، وہ کندھے کی انجری کا شکار ہیں جس کی لندن میں جمعہ کو سرجری ہوگی، انھیں مکمل فٹ ہونے میں 6 سے 12 ہفتے لگ سکتے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ شاداب کو گزشتہ کچھ عرصے سے کندھے میں تکلیف کا سامنا تھا جس سے انھیں گیند تھرو کرنے میں دشواری ہوتی تھی، معاملہ اس وقت سنگین رخ اختیار کر گیا جب بنگلا دیش سے سیریز میں گگلی کرتے ہوئے بھی وہ مشکلات محسوس کرنے لگے، جب وہ تعطیلات گزارنے انگلینڈ گئے تو وہاں ایم آر آئی اسکین سے انجری کی سنگینی کا علم ہوا، ڈاکٹر نے انھیں فوری طور پر سرجری کرانے کا مشورہ دیا۔

شاداب نے خود بھی سوچا کہ ابھی وہ 26 سال کے ہیں اور آگے بڑا کیریئر موجود ہے جسے خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیے، وہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 میں ٹیم کو چیمپیئن بنوانے کا عزم رکھتے ہیں اس لیے ابھی سرجری کا فیصلہ کیا ہے، پی سی بی ان حقائق سے واقف ہے، شاداب چونکہ سینٹرل کنٹریکٹ یافتہ کھلاڑی ہیں لہٰذا ان کی میڈیکل اخراجات بورڈ کی جانب سے ہی ادا کیے جانے کا امکان ہے۔

یاد رہے کہ شاداب خان اب تک 6 ٹیسٹ، 70 ون ڈے انٹرنیشنل اور 112 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ اس دوران انہوں نے 1947 رنز بنائے جبکہ 211 وکٹیں بھی حاصل کیں۔

Post Views: 6.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: بنگلا دیش

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف