حکومتی بے بسی، مغوی اسسٹنٹ کمشنر کے بھائی کی کالعدم تنظیم سے رہائی کی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
تربت پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مغوی اسسٹنٹ کمشنر حنیف نورزئی کے بھائی گلداد نورزئی نے کالعدم تنظیم سے اپیل کی کہ وہ انسانیت اور بلوچی روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے محمد حنیف نورزئی کو جلد بحفاظت رہا کرے۔ اسلام ٹائمز۔ ضلع کیچ کے علاقے تمپ سے ایک ماہ قبل اغواء ہونے والے اسسٹنٹ کمشنر حنیف نورزئی کے بھائی گلداد نورزئی نے کالعدم تنظیم سے حنیف نورزئی کو رہا کرنے اور سیاسی جماعتوں، قبائلی عمائدین، علماء کرام اور سماجی شخصیات سے مغوی اسسٹنٹ کمشنر کی بحفاظت واپسی کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔ تربت پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مغوی اسسٹنٹ کمشنر حنیف نورزئی کے بھائی گلداد نورزئی نے کہا کہ گذشتہ ماہ 4 جون کو اسسٹنٹ کمشنر محمد حنیف نورزئی کو تمپ سے کوئٹہ گھر جاتے ہوئے اغواء کرلیا گیا تھا۔ حنیف نورزئی تاحال لاپتہ اور اغواء کاروں کی حراست میں ہیں۔ اس افسوسناک واقعے نے پورے خاندان کو بے چینی، اذیت اور شدید ذہنی پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حنیف نورزئی ایک ایماندار اور فرض شناس سرکاری افسر ہیں جنہوں نے تمپ میں اپنی تعیناتی کے دوران عوامی خدمت کو ہمیشہ اولین ترجیح دی۔ گلداد نورزئی نے کالعدم تنظیم سے اپیل کی کہ وہ انسانیت اور بلوچی روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے محمد حنیف نورزئی کو جلد بحفاظت رہا کرے۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں، قبائلی عمائدین، علماء کرام اور سماجی شخصیات سے بھی درخواست کی کہ وہ محمد حنیف نورزئی کی بحفاظت واپسی کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مغوی اسسٹنٹ کمشنر محمد حنیف نورزئی گلداد نورزئی نے کالعدم تنظیم سے حنیف نورزئی کو کے بھائی
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز