مودی حکومت نے کشمیری مسلمانوںکی مذہبی آزادی بھی سلب کر رکھی ہے ، مشعال ملک
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 05 جولائی2025ء) پیس اینڈ کلچر آرگنائیزشن کی چیئرپرسن اور غیر قانونی طور پر قید کشمیری آزادی پسندرہنما محمد یاسین ملک کی اہلیہ مشعال حسین ملک نے کہا ہے کہ مودی حکومت نے مقبوضہ جموںوکشمیرمیں مسلمانوں کی مذہبی آزادی بھی سلب کر رکھی ہے جو انتہائی قابل مذمت ہے۔
(جاری ہے)
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق مشعال حسین ملک نے اسلام آبادمیں جاری ایک بیان میں یوم عاشورہ کے جلوسوں پرپابندی، نوجوانوں کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت مسلمانوں کے دینی جذبات کو مجروح کر رہی ہے، واقعہ کربلاکی یادمیں جلوس نکالنا جرم بن گیاہے۔
انہوں نے کہا کہ مذہب پر عمل پیرا ہونا ایک بنیادی انسانی حق ہے لیکن بھارتی انتظامیہ نے کشمیری مسلمانوں کا یہ حق بھی چھین لیاہے، مودی کا مذہبی جبر اب دنیا سے پوشیدہ نہیں ہے۔مشعال حسین ملک نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیر میں مذہبی آزادی پر پابندیوں کا نوٹس لیں اور کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دلانے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔