کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 05 جولائی2025ء)لیاری کے علاقہ بغدادی میں جمعہ کی صبح پانچ منزلہ عمارت کے گرنے سی17افراد جاں بحق ہوگئے ہیں جن میں سات خواتین اور ایک بچہ بھی شامل ہے۔واقعے کے بعد ریسکیو آپریشن میں اب تک 12 زخمیوں کو نکالا جاچکا ہے جبکہ ملبے تلے اب بھی 25 سے 30 افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کردی گئیں۔

تاہم موبائل سگنلز کی غیر موجودگی نے ریسکیو سرگرمیوں کو مشکل بنادیا۔عمارت کے ملبے کو ہٹانے کیلیے بھاری مشینری استعمال کی جارہی ہے۔عمارت میں چھ خاندان رہائش پذیر تھے۔ عمارت کے ہر فلور پر تین پورشن بنائے گئے تھے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ تین سال قبل اس عمارت کو مخدوش قرار دیا گیا تھا، لیکن نہ تو مکینوں نے عمارت خالی کی اور نہ ہی انتظامیہ نے کوئی کارروائی کی۔

(جاری ہے)

حکام نے گرنے والی عمارت سے متصل دو دیگر عمارتوں (ایک دو منزلہ اور ایک سات منزلہ)کو بھی خالی کرا لیا ہے۔ ریسکیو ٹیموں نے عمارت کی بجلی اور گیس کی لائنوں کو بھی کاٹ دیا ہے تاکہ مزید حادثے سے بچا جا سکے۔ریسکیو اہلکار جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ ڈبل ون ڈبل ٹو کے کارکن لائیو لوکیٹر کے ذریعے مصروف عمل ہیں۔

وائس ڈیٹیکٹر تھامے اہلکار بھی ملبے کے نیچے سے انسانی آہٹ یا آواز سننے کی کوشش میں لگے ہیں۔ایک کے بعد ایک لاش ملنے پرعلاقہ مکین سوگوارہیں۔ ملبے کے پاس موجود افراد اپنے پیاروں کی خیریت سے متعلق فکرمند ہیں۔ سول اسپتال منتقل کی جانے والی لاشوں میں 55 سالہ حور بی بی، 35 سالہ وسیم، 21 سالہ پرانتک ولد ہارسی، 28 سالہ پریم ولد نامعلوم جاں بحق افراد میں شامل ہیں جبکہ فاطمہ زوجہ بابو دوران علاج سول اسپتال میں دم توڑ گئیں۔

25 سالہ خاتون، 30 سالہ مرد اور7 سالہ بچے کی لاش ناقابل شناخت ہے۔کمشنر کراچی حسن نقوی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ پوری طرح متحرک ہے، سب ادارے مل کر کام کررہے ہیں ، تقریبا 50 فیصد ڈیڈ باڈیز مل گئی ہیں ، امید ہے کہ اگلے چوبیس گھنٹے میں ریسکیو آپریشن مکمل کرلیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ مخدوش عمارتوں کے مکینوں کو خود ہی دوسری جگہ منتقل ہو جانا چاہیے۔

ہم کسی کو زبردستی گھروں سے نہیں نکال سکتے۔کمشنر کراچی نے حادثے کا ملبہ رہائشیوں پر ڈالتے ہوئے کہا کہ سب سے ذیادہ زمہ داری ان افراد کی ہے جو ان عمارتوں میں رہائش پزیر ہیں ، بلڈنگ کنٹرول اور انتظامیہ جب نوٹس دے رہی ہے تو عمارت کو خالی کرنا چاہئیے۔انھوں نے کہا کہ لیاری میں جو غیر قانونی یا غیر معیاری تعمیرات ہیں ان پر بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے رپورٹ طلب کررہے ہیں، کوشش ہے کہ دوبارہ ایسے واقعات نہ ہوں۔

انہوں نے غیر قانونی تعمیرات کے حوالے سے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ساتھ اجلاس کرنے کا بھی اعلان کیا۔ڈپٹی کمشنر سائوتھ کراچی جاوید کھوسو نے بتایا کہ متاثرہ عمارت کے مکینوں کو 2022، 2023 اور 2024 میں نوٹس دیے گئے تھے۔ ان کے مطابق ضلع میں 107 مخدوش عمارتوں میں سے 21 کو انتہائی خطرناک قرار دیا گیا تھا جن میں سے 14 کو خالی کرا لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیاری کے واقعے پر فوری طور پر کسی کو ذمے دار ٹھہرانا قبل از وقت ہوگا۔

یہ واقعہ شہر میں عمارتوں کی ناقص تعمیر اور انتظامیہ کی لاپرواہی کے سنگین نتائج کی ایک اور المناک مثال ہے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق ریسکیو آپریشن رات گئے تک جاری رہے گا۔ایس ایس پی سٹی عارف عزیز نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ یہاں پر لوگوں کا رش جمع ہونے کی وجہ سے بہت دشواری کا سامنا رہا، ہمیں بار بار لوگوں پر لاٹھی چارج کرنا پڑرہا تھا، تماش بینوں سے درخواست ہے کہ لوگوں کی تکلیف کو سمجھیں ۔انھوں نے کہا کہ لوگوں کے ہجوم لگانے کی وجہ سے ایمبولینسز کا راستہ بھی بلاک ہو رہا ہے، جب تک یہ آپریشن مکمل نہیں ہو جائے گا ہم یہاں موجود رہیں گے۔انہوں نے کہاکہ جو عمارتیں لیاری میں مخدوش قرار دی گئی ہیں، انہیں اب پولیس ضلعی انتظامیہ کے ہمراہ خالی کرائے گی۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ریسکیو آپریشن نے کہا کہ عمارت کے انہوں نے

پڑھیں:

بلوچستان: رواں ماہ بارشوں سے 8 افراد جاں بحق، 41 گھروں کو نقصان

---فائل فوٹو 

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی بلوچستان نے بارشوں کے دوران ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی۔

رپورٹ کے مطابق یکم جون سے اب تک بارشوں، آسمانی بجلی گرنے اور دیگر حادثات کے نتیجے میں 8 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 4 بچے بھی شامل ہیں  جبکہ 13 بچوں اور 2 خواتین سمیت 16 افراد زخمی ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق ضلع کوہلو میں آسمانی بجلی اور دیوار گرنے سے 1 خاتون سمیت 2 افراد جان سے گئے۔

خضدار میں آسمانی بجلی گرنے اور چھت گرنے کے واقعات میں 1 بچے سمیت 2 افراد جاں بحق ہوئے۔

ژوب میں آسمانی بجلی اور چھتیں گرنے سے 3 بچوں سمیت 4 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔

بلوچستان بھر میں بارشوں اور سیلابی ریلوں سے 41 گھروں کو نقصان پہنچا۔ 

خضدار، ژوب، ہرنائی اور بارکھان میں 17 گھر مکمل طور پر تباہ ہو گئے جبکہ 24 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا۔

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان میں بارشوں سے دو ماہ میں آٹھ افراد جاں بحق ، 17 گھر مکمل تباہ
  • کراچی؛ موٹر سائیکل سوار نوجوان کی خاتون سے نازیبا حرکت، ویڈیو سامنے آگئی
  • کراچی: لانڈھی 89 کے قریب گیس سلنڈر کی دکان میں دھماکا، آگ بھرک اتھی
  • ایران کے جزیرہ قشم میں ایک جنگی طیارہ گرنے کی اطلاعات
  • بلوچستان: رواں ماہ بارشوں سے 8 افراد جاں بحق، 41 گھروں کو نقصان
  • آپریشن العزم: سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کامیاب کارروائی، 4 دہشتگرد ہلاک
  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیاں تیز، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں، سرچ آپریشن جاری
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج