data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف رپورٹر) لیاری میں بغدادی کے مقام پر جمعہ کی صبح ایک 6 منزلہ رہائشی عمارت گرنے سے بچے سمیت 10 افراد جاں بحق اور 12 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ عمارت گرنے کی وجوہات اور ذمے داران کا تعین کیا جا سکے۔بغدادی پولیس کے مطابق لیاری بغدادی میں عمارت گرنے کے نتیجے میں 9 افراد دب کر جاں بحق اور 4 خواتین سمیت 8 افراد زخمی ہوگئے ۔ملبے سے 3 ماہ کی بچی کو زندہ نکالا گیا تاہم ملبے میں دبے دیگر افراد کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔مرنے والوں میں 55 سالہ فاطمہ بی بی زوجہ بابو، 32 سالہ پریم، 35 سالہ وسیم ولد بابو، 55 سالہ حور بائی زوجہ کشور، 21 سالہ پرانتک ولد آرسی، 55 سالہ احمد خان، 25 سالہ علی رضا،25 سالہ زینب بی بی اور7سالہ ایک نامعلوم بچہ شامل ہیں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 9 ہو گئی، تمام لاشیں سول اسپتال منتقل کر دی گئیں جبکہ نامعلوم افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ زخمیوں میں 30 سالہ اسلم محمود، 35 سالہ نسرین بانو، 18 سالہ سلیم اختر، 25 سالہ راشد ولد عزیز، 45 سالہ یوسف ولد سبحان، 35 سالہ سنیتہ زوجہ چینن، 50 سالہ فاطمہ زوجہ بابو اور 35 سالہ چندہ زوجہ جمعہ شامل ہیں جنہیں سول اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو حکام اور الخدمت سمیت متعدد امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ تاہم، تنگ گلیوں اور موبائل سگنلز کی بندش کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ترجمان ریسکیو 1122 حسان الحسیب کا کہنا ہے کہ لیاری میں عمارت گرنے کے واقعے کی اطلاع “جیمرز” کی وجہ سے دیر سے ملی کیونکہ سیکورٹی وجوہات کی بنا پر علاقے میں موبائل فون سگنلز بند تھے۔ترجمان 1122 کا مزید کہنا تھا کہ عمارت گرنے کے 15 منٹ کے اندر ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور 100 سے زاید ریسکیو اہلکار امدادی کارروائیوں میں مصروف رہے۔ حسان الحسیب نے کہا کہ بھاری مشینری کے لیے انتظامیہ اور پی ڈی ایم اے سے رابطہ کیا گیا، تاہم صرف ایک یا 2 مشینری ہی جائے وقوع پر پہنچ سکی۔ ہیوی مشینری کو جائے وقوع تک پہنچنے میں تاخیر ہوئی جس کے باعث ابتدائی طور پر مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیاں شروع کیں۔ریسکیو حکام نے بتایا کہ عمارت میں 6 خاندان رہائش پذیر تھے اور ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے ہیوی مشینری کی مدد سے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے۔ تاہم، علاقہ مکینوں کے مطابق متاثرہ عمارت میں 12 خاندان رہائش پذیر تھے۔ حفاظتی اقدام کے طور پر گرنے والی عمارت کے ساتھ جڑی 2 اور 7 منزلہ عمارتوں کو بھی خالی کرا لیا گیا ہے اور بجلی اور گیس کی لائنیں منقطع کر دی گئی ہیں۔ حسان الحسیب نے مزید بتایا کہ جائے وقوع پر اطراف کی عمارتوں کو بھی خالی کرا لیا گیا ہے۔پولیس حکام نے جائے وقوع کا دورہ کیا ہے اور ابتدائی بیانات ریکارڈ کیے ہیں۔ ریسکیو حکام کے مطابق، عمارت مکمل طور پر زمین بوس ہو گئی تھی اور ملبے تلے مزید 25 سے 30 افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ عمارت پرانی اور خستہ حال تھی، تاہم اس کی تعمیراتی تفصیلات اور متعلقہ سرکاری محکموں کی جانب سے جاری کردہ اجازت ناموں کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔پولیس عمارت کے اصل نقشے، اس کی تعمیر کے وقت استعمال ہونے والے مواد کے معیار اور اس کی تعمیر میں کسی قسم کی خامی تھی، کی تحقیقات کر رہی ہے۔ عمارت کے مالک کی شناخت کر لی گئی ہے اور ان سے پوچھ گچھ کی جائے گی کہ کیا عمارت کی باقاعدہ دیکھ بھال کی جا رہی تھی یا اس میں کوئی غیر قانونی تبدیلی کی گئی تھی۔ اس بات کی بھی جانچ کی جائے گی کہ کیا بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی یا دیگر متعلقہ سرکاری محکموں نے عمارت کی خستہ حالی کے حوالے سے کوئی نوٹس جاری کیا تھا یا نہیں اور اگر کیا تھا تو اس پر عمل درآمد کیوں نہیں ہوا۔ پولیس عینی شاہدین کے بیانات بھی ریکارڈ کر رہی ہے جو عمارت کے گرنے کے وقت موجود تھے تاکہ واقعے کے حالات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ذمے داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ علاقے میں سوگ کا سماں ہے اور مزید اموات کے خدشے کے پیش نظر مقامی آبادی میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔دریں اثنا صدر پاکستان آصف علی زرداری ، وزیر اعظم محمد شہباز شریف ،وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ ، سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف علی خورشیدی ،جی ڈی اے کے اطلاعات سیکرٹری سردار عبدالرحیم ،جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم اور معروف مذہبی اسکالر ڈاکٹر مفتی نعمان نعیم،سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے صدر اور دریائے سندھ بچاؤ تحریک کے کنوینر سید زین شاہ نے لیاری میں رہائشی عمارت کے گرنے پر گہرے تشویش اور حادثے میں جانی و مالی نقصان پر دکھ اور افسوس کا اظہارکیا ہے ۔صدر مملکت نے حادثے کی وجوہات کا فوری تعین کرنے اور مستقبل میں ایسے واقعات سے بچاؤ کے لیے مؤثر اقدامات کی ہدایت بھی کی ۔وزیر اعظم نے حادثے میں زخمی ہونے والوں کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کرنے اورعمارت کے ملبے تلے دبے افراد کو بچانے کے حوالے سے ریسکیو آپریشن تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچائو کے لیے ترجیحی بنیادوں پر حکمت عملی مرتب کی جائے۔عمارت زمین بوس

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: عمارت کے گرنے کے کی جائے کے لیے ہے اور

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا