ملک کا سب سے بڑا ڈیم پانی سے مکمل طور پر بھر گیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) ملک کا سب سے بڑا ڈیم پانی سے مکمل طور پر بھر گیا، مون سون بارشوں کے آغاز کے بعد ملک کے تمام آبی ذخائر میں پانی کی صورتحال بہتر ہو گئی۔ تفصیلات کے مطابق ملک کے سب سے بڑے ڈیم تربیلا میں پانی کا ذخیرہ مکمل طور پر بھر جانے کے بعد ڈیم کے ا سپل وے کو کھول گیا گیا۔ واپڈا کے ترجمان نے ملک کے اہم دریاؤں میں پانی کی
آمد و اخراج اور آبی ذخائر کی تازہ ترین صورتحال سے متعلق تفصیلات جاری کر دی ہیں۔بتایا گیا ہے کہ مون سون سیزن کے دوران پانی کے بہاؤ میں تیزی دیکھنے میں آرہی ہے۔ترجمان کے مطابق تربیلا کے مقام پر دریائے سندھ میں پانی کی آمد 2 لاکھ 64 ہزار 100 کیوسک جبکہ اخراج 2 لاکھ 39 ہزار 300 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ منگلا کے مقام پر دریائے جہلم کی آمد 24 ہزار 100 کیوسک اور اخراج 10 ہزار کیوسک ہے۔چشمہ بیراج میں پانی کی آمد 2 لاکھ 14 ہزار 200 کیوسک جبکہ اخراج 2 لاکھ 35 ہزار 300 کیوسک ہے۔ترجمان کے مطابق ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی آمد 75 ہزار 500 کیوسک اور اخراج 49 ہزار کیوسک رپورٹ کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میں پانی کی ا مد
پڑھیں:
سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔