محکمہ وائلڈ لائف پنجاب کاکریک ڈاؤن، 13 شیر برآمد، 5 افراد گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور(نمائندہ جسارت)لاہور میں خاتون پر شیر کے حملے کے واقعے کے بعد پنجاب حکومت حرکت میں آگئی۔محکمہ جنگلی حیات نے صوبے میں بغیر لائسنس شیر رکھنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کردیا۔محکمہ جنگلی حیات نے کریک ڈاؤن کے دوران 24 گھنٹوں میں 13 شیر برآمد کر کے 5 افراد کو حراست میں لے لیا اور 5 مقدمات بھی درج کرلیے۔ترجمان
وائلڈ لائف نے بتایا کہ صرف لاہور سے 4 شیر بازیاب کرکے 4 افراد گرفتار کیے ہیں۔اسی طرح گوجرانوالا سے بھی 4 شیر برآمد کر لیے گئے، ملتان میں 3 شیر بازیاب کرکے ایک شخص کو گرفتار کیاگیا اور دو ایف آئی آر درج کی گئیں جبکہ فیصل آباد میں بھی 2 شیر تحویل میں لیے گئے اور ایک احاطہ سیل کیا گیا۔سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے جنگلی حیات کا غیر قانونی کاروبار ناقابلِ برداشت قرار دیتے ہوئے کہاکہ عوامی سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا۔یاد رہے کہ گزشتہ روز لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں واقع فارم ہاؤس کے شیر نے حملہ کرکے خاتون اور دو بچوں کو زخمی کردیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
پشاور:حیات میڈیکل کمپلیکس پشاور میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری ہے جس کے باعث مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے او پی ڈیز اور آپریشنز کا مکمل بائیکاٹ کیا گیا جبکہ احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں نے او پی ڈی کمروں کو تالے بھی لگا دیے۔ ہڑتال کے باعث اسپتال میں مختلف طبی سروسز کی فراہمی معطل ہو کر رہ گئی۔
اس صورتحال کے نتیجے میں علاج کی غرض سے آنے والے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر اسفندیار نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اپنے وعدے کے مطابق کرپشن کی شفاف تحقیقات کروائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے اس حوالے سے فوری اقدامات نہ کیے تو صوبے بھر کے تمام اسپتال بند کر دیے جائیں گے۔