data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سندھ حکومت نے گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے لیے ’’اجرک‘‘ کے ڈیزائن والی نمبر پلیٹیں لازمی قرار دی ہیں انہیں استعمال نہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی اور جرمانے اور ضبطی کے احکامات جاری کیے ہیں، بظاہر یہ فیصلہ سیف سٹی پروجیکٹ کے تحت کیا گیا ہے۔ جس کا مقصد جدید، ٹیکنالوجی پر مبنی سیکورٹی اور نگرانی کا نظام ہے تاکہ شہر کو محفوظ، پْرامن بنایا جاسکے، جرائم پر قابو پانے میں مدد ملے اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں چالان گھروں تک پہنچانے میں مدد ملے، یہ منصوبہ خصوصی طور پر کیمروں، جدید سافٹ وئر، مصنوعی ذہانت (AI)، اور ڈیجیٹل مواصلاتی نظام کے ذریعے پولیس، ٹریفک کنٹرول، ہنگامی خدمات، اور دیگر سرکاری اداروں کو مربوط کرتا ہے تاکہ وہ تیز، مؤثر اور شفاف انداز میں شہریوں کی حفاظت کر سکیں۔ مگر المناک صورتحال یہ ہے کہ اس فیصلے سے کراچی کے شہری جو پہلے ہی ان گنت مسائل و مشکلات سے دوچار ہیں، ان کی زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی ہے۔ ٹریفک پولیس نے اسے اپنی جیب گرم کرنے کا ذریعے بنا لیا ہے، جابجا ناکے لگا کر شہریوں سے لوٹ مار کا بازار گرم کردیا گیا ہے، دو ماہ میں موٹر سائیکل ودیگر گاڑیوں کے 52 ہزار سے زائد چالان کیے جاچکے ہیں۔ صرف چالان کی مد میں 9.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا
فائل فوٹوکراچی میں جیکسن کے علاقے میں بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ساؤتھ اسد رضا کے مطابق 6 سالہ بچی کی لاش آج دوپہر کو جیکسن کے علاقے سے ملی تھی، ملزم کی گرفتاری کے لیے جیسے ہی پولیس پہنچی، اُس نے پولیس پر فائرنگ کردی۔
ڈی آئی جی کا کہنا ہے کہ پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ملزم ہلاک ہوگیا، جس کے پاس سے اسلحہ برآمد ہوا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بچی کل دوپہر کو لاپتا ہوئی تھی، آج اس کی لاش ملی، ابتدائی پوسٹ مارٹم میں بھی بچی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق ہوگئی تھی۔