بھارت سے شکست کے بعد انگلینڈ کے پیس اٹیک میں تبدیلیاں متوقع
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بھارت کے خلاف سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میں شکست کے بعد انگلینڈ کے پیس اٹیک میں اہم تبدیلیاں متوقع ہیں۔
انگلینڈ اور بھارت کے درمیان تیسرا ٹیسٹ میچ جمعرات سے لارڈز میں شروع ہوگا۔ سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں میزبان انگلینڈ نے بھارت کو شکست دی تھی جبکہ دوسرے میچ میں مہمان ٹیم نے انگلش ٹیم کو شکست دو چار کیا۔
سیریز کے تیسرے ٹیسٹ میں انگلینڈ کی جانب سے اہم فاسٹ بولرز کو میدان میں اتارے جانے کا امکان ہے اور اس حوالے سے اسکواڈ میں گس ایٹکنس کو شامل کیا گیا ہے۔
فاسٹ بولر گس ایٹکنس ہیمسٹرنگ انجری کی وجہ سے ٹیم سے باہر تھے۔
ایٹکنسن نے اسکواڈ میں جوفرا آرچر، سیم کک اور جیمی اورٹن کو جوائن کر لیا ہے، اگلے میچ کیلیے متبادل آپشن ہو سکتے ہیں۔
انگلش ٹیم ہیڈ کوچ برینڈن میک کولم کا کہنا تھا کہ ابتدائی دو ٹیسٹ میچز میں جن بولرز نے بولنگ، اب انہیں آرام کا موقع دیا جا سکتا ہے۔ اس وقت جوفا آرچر بھی فٹ ہیں جو میدان میں اپنا ہنر دکھا سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :