سندھ حکومت نے پنشن نظام میں اصلاحات کی منظوری دے دی
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی میں وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں سندھ کابینہ نے پنشن اصلاحات کی منظوری دے دی۔ وزیراعلیٰ کے ترجمان کے مطابق اصلاحات کا باقاعدہ نوٹیفکیشن محکمہ خزانہ جاری کرے گا۔
اجلاس میں لیبر ڈپارٹمنٹ کو کم از کم اجرت کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے، تاہم یہ شرط رکھی گئی ہے کہ نوٹیفکیشن سے قبل تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں۔
کابینہ نے زرعی آمدنی پر ٹیکس سے متعلق نئے قواعد بھی منظور کیے ہیں جن کے تحت زمینداروں کو سندھ ریونیو بورڈ (SRB) کے ساتھ رجسٹریشن کروانا لازمی ہوگا۔
مزید یہ کہ اجلاس میں چیئرمین ہیومن رائٹس کمیشن اقبال ڈیتھو کے خلاف الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک سب کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے، جس میں وزیر قانون، وزیر ایکسائز اور انسانی حقوق کے معاونِ خصوصی شامل ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔