سوشل میڈیا کو بلاک کر سکتے ہیں، مواد کو نہیں ہٹایا جا سکتا،چیئرمین پی ٹی اے
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (آن لائن) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کو چیئرمین پی ٹی اے حفیظ الرحمن نے بتایا کہ ہم سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو بلاک کر سکتے ہیں، خاص مواد کو نہیں ہٹایا جا سکتا۔کسی ویب سائٹ سے خاص مواد بلاک کرنے کی صلاحیت محض امریکا، اسرائیل کے پاس ہے۔ وی پی این لگا کر صارف پورے سسٹم کو بائی پاس کر لیتا ہے۔اس وقت پاکستان میں40 سے زائد وی پی این استعمال ہو رہے ہیں۔ایکس کو حکومت کی ہدایت پر فروری 2024 میں بلاک کیا گیا۔
.ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ڈیٹنگ رئیلٹی شو ’لازوال عشق‘ پر تنقید کے بعد عائشہ عمر کی وضاحت، سوشل میڈیا صارفین اب کیا کہتے ہیں؟
پاکستان کے پہلے ڈیٹنگ رئیلٹی شو ’لازوال عشق‘ کی میزبانی کرنے والی اداکارہ عائشہ عمر حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ یہ شو یوٹیوب پر نشر کیا جا رہا ہے اس کی ریکارڈنگ ترکی کے ایک ولا میں کی گئی ہے۔ شو میں پاکستانی خواتین و مرد امیدوار شامل ہیں جو ایک ہی رہائش گاہ میں وقت گزارتے ہیں اور مختلف سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔
اس فارمیٹ کی وجہ سے پاکستان میں شدید عوامی ردِ عمل سامنے آیا ہے، اس پر وضاحت دیتے ہوئے عائشہ عمر نے کہا ہے کہ ’لازوال عشق‘ پاکستانی پروڈکشن نہیں بلکہ ترکی کی ایک بڑی پروڈکشن کمپنی نے اسے تیار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’ہم اپنی بیٹیوں کو ڈیٹنگ سکھا رہے ہیں؟‘ فضا علی کی ’لازوال عشق‘ پر کڑی تنقید
ان کا کہنا تھا کہ ’لازوال عشق پاکستانی پروڈکشن نہیں ہے اور نہ ہی اسے ہماری عدالت نے بین کیا ہے۔ یہ پاکستانی شو نہیں ہے، لیکن اس کا ناظرین میں پاکستانی لوگ شامل ہیں، اُن میں وہ لوگ بھی ہیں جو دنیا کے مختلف ممالک میں رہتے ہیں اور اُردو سمجھتے یا بولتے ہیں‘۔
اداکارہ نے کہا کہ ’یہ ایک اُردو زبان کا رئیلٹی شو ہے جس میں سکھایا جاتا ہے کہ بات چیت کیسے کی جائے، ہم عمر افراد اور پارٹنرز کے ساتھ تعلقات کیسے بنائے جائیں، اور شاید حقیقی محبت بھی مل جائے یہ سب بالغ اور رضامند افراد کے درمیان ہوتا ہے۔ اسے کبھی بھی کسی ٹی وی چینل پر نشر کرنے کا ارادہ نہیں تھا۔ کوئی پاکستانی پروڈکشن ہاؤس اس میں شامل نہیں تھا۔ یہ ترکی کی سب سے بڑی پروڈکشن کمپنیوں میں سے ایک نے بنایا ہے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ جن لوگوں نے یہ شو نہیں دیکھا اور غلط فہمیاں پھیلا رہے ہیں، انہیں بتا دوں کہ خواتین اور مرد امیدواروں کے لیے سونے اور تیار ہونے کے لیے علیحدہ جگہیں مختص ہیں‘۔
اداکارہ کے اس وضاحتی موقف کے باوجود سوشل میڈیا صارفین نے ان پر شو کے ’غیر اخلاقی‘ تصور کا دفاع کرنے پر سخت تنقید کی ہے۔ کئی صارفین نے الزام لگایا کہ پروڈیوسرز پاکستانی ثقافت پر بیرونی طرز کا مواد مسلط کر رہے ہیں، جبکہ کچھ نے عائشہ عمر کو ایک ’سستے شو‘ کی تشہیر کرنے پر آڑے ہاتھوں لیا۔ بعض تبصروں میں کہا گیا کہ وہ اس شو کا دفاع ایسے کر رہی ہیں جیسے یہ کوئی ’بہترین یا مذہبی نوعیت‘ کا پروگرام ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
عائشہ عمر لازوال عشق لازوال عشق پر پابندی لازوال عشق تنقید