سعودی عرب نے بدھ کے روز انڈونیشیا کو 2-3 سے شکست دے کر 2026 فیفا ورلڈ کپ فائنلز کے لیے اپنی راہ ہموار کر لی۔ الاہلی کے کھلاڑی صالح ابو الشامات کے خوبصورت گول اور فِراس البریکان کے 2 گولوں نے ٹیم کو قیمتی کامیابی دلائی۔

کنگ عبداللہ اسپورٹس سٹی اسٹیڈیم، جدہ میں کھیلے گئے ایشیائی کوالیفائرز کے چوتھے راؤنڈ کے اس پہلے میچ میں سعودی ٹیم کو ابتدا میں دھچکا لگا جب 11ویں منٹ میں حسن تمباکتی کے ہاتھ سے گیند لگنے پر انڈونیشیا کو پنالٹی ملی۔ کیون ڈکس نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے گیند کو جال میں پہنچا دیا۔

ابتدائی گول کے بعد سعودی شائقین میں تشویش پیدا ہوئی، کیونکہ ٹیم نے پچھلے مرحلے کے 10 میچوں میں صرف 7 گول کیے تھے۔ تاہم، صرف 6 منٹ بعد سعودی عرب نے شاندار انداز میں برابری حاصل کر لی۔ مصعب الجویر کے خوبصورت پاس پر صالح ابو الشامات نے دفاعی کھلاڑی کو چکمہ دیتے ہوئے بائیں پاؤں سے گیند کو نیچے کے کونے میں پھینک دیا۔

یہ بھی پڑھیے کرسٹیانو رونالڈو نے ایک اور سنگ میل عبور کرلیا، دنیا کے پہلے ارب پتی فٹبالر بن گئے

پہلے ہاف کے اختتام سے 10 منٹ قبل سعودی عرب کو پنالٹی ملی جسے فِراس البریکان نے گول میں تبدیل کر کے ٹیم کو برتری دلا دی۔

میچ کے دوسرے ہاف میں سعودی ٹیم نے تیسرے گول کے لیے دباؤ برقرار رکھا، جو بالآخر 61ویں منٹ میں حاصل ہوا۔ الجویر کے طویل فاصلے سے مارے گئے شاٹ کو گول کیپر مارٹن پیس نے روکا مگر ریباؤنڈ پر موجود البریکان نے گیند کو جال میں پہنچا دیا۔

انڈونیشیا نے میچ کے آخری لمحات میں ایک اور پنالٹی حاصل کی جسے کیون ڈکس نے 89ویں منٹ میں گول میں بدل دیا۔

یہ بھی پڑھیں: ’سعودی عرب اب میرا گھر ہے‘، رونالڈو

میچ کے اختتام پر سعودی ٹیم نے محمد کنو کے ریڈ کارڈ کے باوجود 9  منٹ کے اضافی وقت میں برتری برقرار رکھی اور قیمتی فتح اپنے نام کی۔

اب سعودی عرب منگل کے روز عراق کا سامنا کرے گا۔ اس میچ میں کامیابی انہیں باضابطہ طور پر 2026 ورلڈ کپ کے فائنلز میں پہنچا دے گی، جبکہ ایک پوائنٹ بھی ان کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

گروپ بی کا اگلا میچ ہفتے کو عراق اور انڈونیشیا کے درمیان کھیلا جائے گا۔ گروپ بی کی فاتح ٹیم براہِ راست ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرے گی، جبکہ دوسری پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیم گروپ اے (قطر، عمان، اور یو اے ای) کی رنر اپ کے ساتھ پلے آف کھیلے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سعودی عرب فٹ بال.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سعودی عرب فٹ بال ورلڈ کپ کے لیے

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے