ملک بھر میں مون سون کا سلسلہ جاری، لینڈ سلائیڈنگ اور طغیانی کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
ملک کے مختلف حصوں میں مون سون کی بارشیں وقفے وقفے سے جاری ہیں، جبکہ محکمہ موسمیات اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے شدید بارشوں، لینڈ سلائیڈنگ اور ندی نالوں میں طغیانی کے خدشے کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا ہے۔
آج پنجاب ،خیبر پختونخوا، کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی توقع ہے۔ اس دوران کشمیر، شمال مشرقی پنجاب اور اسلام آبادمیں چند مقامات پر تیز / موسلادھار بارش بھی متوقع ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد میں اب تک 36 ملی میٹر، لاہور میں 26 ملی میٹر اور شیخوپورہ میں 23 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ مری میں 6 ملی میٹر اور منڈی بہاؤالدین میں 4 ملی میٹر بارش ہوئی، جبکہ بالائی خیبرپختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی بارش کا سلسلہ جاری ہے۔
محکمہ نے پیشگوئی کی ہے کہ مری، گلیات اور ملحقہ علاقوں میں آئندہ چند گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارش کا امکان ہے، جبکہ کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی مزید بارشوں کی توقع ہے۔
مزید پڑھیں: آئندہ 6 سے 12 گھنٹوں کے دوران شدید بارشوں، طوفانی ہواؤں سیلابی صورتحال کا خطرہ
گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران پنجاب، اسلام آباد، خیبرپختونخوا، کشمیر، شمال مشرقی بلوچستان اور بالائی سندھ میں گرج چمک کے ساتھ بارش جبکہ چند مقامات پر مو سلادھار بارش بھی ہوئی۔
سب سے زیادہ بارش (ملی میٹر) پنجاب:شیخوپورہ 52، لاہور (سٹی 42، ایئر پورٹ 36)، راولپنڈی (شمس آباد 38، چکلالہ 16، کچہری 02، پیر ودھائی01)، ساہیوال 29، اسلام آباد (سٹی 24، سید پور 01)، اوکاڑہ 21، مری 06، فیصل آباد 04، ملتان ایئرپورٹ 04، قصور، منڈی بہاؤالدین 01۔
خیبرپختونخوا:
بالاکوٹ 40، مالم جبہ 28، کاکول 13، دیر (زیریں04، بالائی01)۔
بلوچستان:
قلات 17، کشمیر: مظفرآباد (ایئرپورٹ 16، سٹی 12)، راولاکوٹ 02، کوٹلی 01، سندھ: بدین 04، پڈعیدن 01۔
گلگت بلتستان:
بگروٹ میں 07 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
آج ریکارڈ کئے گئے زیادہ سےزیادہ درجہ حرارت نوکنڈی، دالبندین 45، چلاس 42، تربت،بہاولنگر اور نور پور تھل میں 41 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
مزید پڑھیں: این ڈی ایم اے اور صوبائی ادارے فوری ایکشن میں آ جائیں، سیلابی خطرے پر تیاری مکمل رکھی جائے، وزیراعظم
ادھر این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ گلگت بلتستان کے دریائے ہنزہ، شیگر، ہسپار، خنجراب، شمشال، برالدو، ہوشے اور سالتورو سمیت مختلف ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ سیاحوں اور مقامی آبادی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ندی نالوں کے قریب جانے سے گریز کریں اور تمام تر احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
گلگت، اسکردو، ہنزہ، استور، دیامر، گانچھے اور شگر میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود ہے، جبکہ کشمیر کے اضلاع مظفرآباد، نیلم ویلی، راولا کوٹ، ہویلی اور باغ میں بھی زمین کھسکنے کے واقعات کا اندیشہ ہے۔
این ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے اور کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات مکمل رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب کے بیشتر اضلاع میں رات بھر بادل برسنے سے کپاس اور دھان کی فصلوں کو خاطر خواہ فائدہ پہنچے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
این ڈی ایم اے سیلاب شدید بارش طغیانی لینڈ سلائیڈنگ محکمہ موسمیات موسم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: این ڈی ایم اے سیلاب طغیانی لینڈ سلائیڈنگ محکمہ موسمیات محکمہ موسمیات لینڈ سلائیڈنگ گلگت بلتستان ڈی ایم اے اسلام آباد ملی میٹر
پڑھیں:
گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا، متعدد شاہراہیں، پل اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے سے ہزاروں افراد، جن میں سیاح بھی شامل ہیں، مختلف علاقوں میں پھنس گئے۔
محکمہ موسمیات نے 26 جولائی تک گلگت بلتستان میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے اچانک سیلاب آنے کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پورا ہفتہ موسلا دھار مون سون بارشیں، محکمہ موسمیات کا ملک گیرالرٹ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا انتباہ
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق قراقرم شاہراہ داسو سے ہنزہ اور نگر تک کئی مقامات پر بند ہے، جبکہ بابوسر روڈ، بلتستان روڈ، نلتر شاہراہ، غذر۔شندور روڈ، استور ویلی روڈ اور دیگر اہم راستے بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ناقابلِ استعمال ہوگئے ہیں۔
مسلسل سیلابی صورتحال کے باعث امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ کئی علاقے پل اور رابطہ سڑکیں تباہ ہونے کے بعد ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہو گئے ہیں۔
روندو سب ڈویژن کے تورمک نالہ میں شدید سیلاب سے کم از کم تین اہم پل، جن میں ملان پل بھی شامل ہے، بہہ گئے۔ خرمانگ، گانچھے اور شگر اضلاع میں سڑکوں، پلوں، زرعی زمینوں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ ہراموش میں معلق پل اور بجلی گھر متاثر ہوئے ہیں۔
استور، تانگیر، تھور اور ضلع دیامر کے دیگر علاقوں میں بجلی، پانی اور مواصلاتی نظام معطل ہو گیا ہے۔ پینے کے پانی کی اسکیمیں، آبپاشی کے نہری نظام اور حفاظتی پشتے بھی تباہ ہو گئے، جبکہ کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری
استور، تھور ویلی، تانگیر اور دیگر علاقوں میں درجنوں خاندان سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بے گھر ہو گئے ہیں۔
ضلع غذر میں متعدد مقامات پر سڑکیں بند، مقامی سطح پر سیلابی صورتحال اور دو گھروں کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت حساس علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
ہنزہ نگر دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے سے گلگت کے جوتل علاقے میں آٹھ گھروں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جبکہ یاسین ویلی، شیلی آباد، امیت اور دیگر علاقوں میں دریا کے کٹاؤ سے زرعی اراضی اور درختوں کو نقصان پہنچا ہے۔ غذر۔شندور اور غذر۔گلگت سڑکیں بھی تاحال بند ہیں۔
حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے اور انہیں خیمے، راشن، ادویات اور صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 6 سے 10 اپریل کے دوران بارشیں اور ژالہ باری، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے کام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو چوبیس گھنٹے الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے خوراک، صحت، پینے کے پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور تباہ شدہ سڑکوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کی فوری بحالی کے لیے بھاری مشینری استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر متاثرین کی بحالی اور ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے اسلام آباد میں قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا، جہاں چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے انہیں بتایا کہ گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کی جدید سائنسی طریقوں سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر گلیشیئر کو منفرد شناختی کوڈ دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔
وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب ایک حقیقت بن چکے ہیں اور گلگت بلتستان ان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون پر زور دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش تباہی سیلاب گلگت بلتستان