آسٹریلوی فضائی کمپنی قنطاس کی سائبر حملے سے 57 لاکھ صارفین کے متاثر ہونے کی تصدیق
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
سڈنی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 09 جولائی2025ء) آسٹریلوی فضائی کمپنی قنطاس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ گزشتہ ماہ کے آخر میں اس پر ہونے والے سائبر حملے سے اس کے 57 لاکھ صارفین متاثر ہوئے۔شنہوا کی رپورٹ کے مطابق قنطاس کی جانب سے بدھ کو جاری بیان میں کہا گیا کہ فرانزک تجزیے سے پتا چلا ہے کہ 30 جون کو غیر ملکی کال سینٹر کے ذریعے استعمال ہونے والے تھرڈ پارٹی سسٹم پر ہونے والےسائبر حملے میں57 لاکھ صارفین کا ذاتی ڈیٹا چوری کیاگیا تھا۔
ان میں سے 2.8 ملین صارفین میں نام، ای میل ایڈریس اورقنطاس فریکوئینٹ فلائر نمبرز،باقی 1.2 ملین میں صرف نام اور ای میل ایڈریس اور اس کے علاوہ 1.7 ملین صارفین کے حوالے سے مزید ڈیٹا بشمول پتے، تاریخ پیدائش، فون نمبر اور کھانے کی ترجیحات کو چوری کر لیا گیا تھا۔
(جاری ہے)
قنطاس گروپ کی چیف ایگزیکٹیو وینیسا ہڈسن نے کہا کہ ایئر لائن نے صارفین سے رابطے کر کے انہیں ان مخصوص ذاتی ڈیٹا فیلڈز کے بارے میں مطلع کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے جن سے معلومات کو چوری کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد سے ہم نے اپنے صارفین کے ڈیٹا کو مزید محفوظ بنانے کے لئے سائبر سکیورٹی کے متعدد اضافی اقدامات کئے ہیں اور جو کچھ ہوچکا اس کا جائزہ بھی لیا جا رہا ہے۔ایئر لائن نے 2 جولائی کو انکشاف کیا تھا کہ اس پر ایک بڑا سائبر حملہ کیا گیا ہے اور پیر کو بتایا تھا کہ ایک ہیکر نے کمپنی سے رابطہ کر کے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ وینیسا ہڈسن نے مزید کہا کہ قنطاس اس واقعے کے سلسلے میں نیشنل سائبر سکیورٹی کوآرڈینیٹر، آسٹریلوی سائبر سکیورٹی سینٹر اور آسٹریلوی فیڈرل پولیس کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔کمپنی نے صارفین کو الرٹ رہنے کا مشورہ دیا ہے، خاص طور پر ای میلز، فون کالز اور پیغامات کے ساتھ جہاں بھیجنے والا یا کالر قنطاس سے ہونے کا دعویٰ کرے۔قنطاس نے کہا کہ حملے میں چوری کیا گیا کوئی بھی ذاتی ڈیٹا جاری نہیں کیا گیا ہے اور کمپنی اس کی سائبر سکیورٹی کے ماہرین کی مدد سے فعال طور پر نگرانی جاری رکھے ہوئے ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سائبر سکیورٹی کیا گیا کہا کہ
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔