گوادر میں پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
---فائل فوٹو
بلوچستان کے شہر گوادر میں پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے، گوادر اور اس کے نواحی علاقوں میں پینے کے صاف پانی کا مسئلہ ایک بار پھر سنگین صورتحال اختیار کر چکا ہے۔
گوادر شہر سمیت جیونی، سُربندن، پیشکان اور دیگر نواحی علاقوں میں پانی نایاب ہوچکا ہے، پانی کی قلت کے خلاف شہری سڑکوں پر احتجاج کرنے لگے ہیں۔
دوسری جانب شہریوں کا کہنا ہے کہ پانی کی قلت جیسے ہی شدت اختیار کرتی ہے، ٹینکر مافیا بھی سرگرم ہو جاتا ہے، 4 سے 5 ہزار روپے میں ملنے والا 16 سے 18 ہزار لیٹر پانی کا ٹینکر 20 سے 25 ہزار روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے۔
گوادر کے عوام کی شکایت ہے کہ گوادر کے شہری ہمیشہ پانی کے لیے ترستے ہیں۔ حکومتی دعوے تو کیے جاتے ہیں لیکن اس پر عمل نہیں ہوتا۔
گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے چیف انجینئر سید محمد کا کہنا ہے کہ گوادر میں پانی کی قلت کی ایک بڑی وجہ مسلسل خشک سالی ہے، موجودہ حالات میں شادی کور ڈیم کو گوادر سے منسلک کر دیا گیا ہے، گوادر شہر میں پانی کی فراہمی کے لیے 141 کلومیٹر نئی پائپ لائن بچھادی گئی ہیں جس کے ذریعے روزانہ 32 سے 35 لاکھ گیلن پانی پہنچا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر بجلی کا مسئلہ نہ ہو، تو پانی کی فراہمی میں بھی کوئی رکاوٹ نہیں آتی، کبھی کبھار لوڈشیڈنگ اور کم وولٹیج کی وجہ سے عارضی کمی ہو سکتی ہے مگر مجموعی طور پر پانی کی کوئی کمی نہیں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اختیار کر میں پانی پانی کی پانی کا
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔