علی امین اور بیرسٹر سیف کا انجام بھی ’نیکسٹ اسٹاپ اڈیالہ‘ نظر آ رہا ہے، عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
پنجاب اور خیبرپختونخوا کی حکومتوں کے ترجمانوں کے درمیان آڈٹ رپورٹس پر الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے پنجاب حکومت پر 10 کھرب روپے کی بے ضابطگیوں کا الزام عائد کیا، وہیں پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کے سیاسی مستقبل کو ’نیکسٹ اسٹاپ اڈیالہ‘ قرار دیا ہے۔
بیرسٹر سیف نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ پنجاب حکومت اب تک 10 کھرب روپے کی بے ضابطگیوں کا جواب دینے سے قاصر ہے، جو مریم نواز اور شریف خاندان کی مبینہ کرپشن کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ شریف خاندان عوام کا پیسہ لوٹ کر بیرون ملک منتقل کر رہا ہے اور ترقیاتی منصوبے صرف کمیشن کے لیے شروع کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ٹک ٹاک پر جھوٹے دعوے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے۔‘
مزید پڑھیں: دریائے سوات حادثہ: وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری خیبرپختونخوا حکومت پر شدید برہم
اس پر ردعمل دیتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے بیرسٹر سیف کے الزامات کو جھوٹ اور سیاسی منافقت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جس آڈٹ رپورٹ کا واویلا کیا جا رہا ہے وہ دراصل عثمان بزدار اور پرویز الٰہی کے دور حکومت کی رپورٹ ہے۔ عظمیٰ بخاری نے کہا کہ صفحہ 87 اور 96 پڑھیں، شاید تھوڑی شرم آجائے۔ گندم سبسڈی اور خریداری سے متعلق معاملات 2018 سے 2023 کے درمیان کے ہیں، جب پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت تھی۔
عظمیٰ بخاری نے جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گزشتہ 12 سال سے پی ٹی آئی حکومت نے جو لوٹ مار کی، وہ سب کے سامنے ہے۔ آپ کا لیڈر بغضِ شریف میں وزیراعظم ہاؤس سے سیدھا اڈیالہ جا پہنچا، اب علی امین اور بیرسٹر سیف کا نیکسٹ اسٹاپ بھی وہی لگ رہا ہے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ جعلی افواہوں اور پروپیگنڈے کا حصہ نہ بنیں، پی ٹی آئی کے رہنما اپنے گریبان میں جھانکیں، پنجاب حکومت الزامات کی نہیں کارکردگی کی بنیاد پر آگے بڑھ رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ بیرسٹر سیف عظمیٰ بخاری علی امین گنڈاپور.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اڈیالہ بیرسٹر سیف علی امین گنڈاپور بیرسٹر سیف رہا ہے
پڑھیں:
سیمنٹ پیداوار رائلٹی کیس، پنجاب حکومت کے فیصلے پر وفاقی آئینی عدالت کا سخت اظہارِ تشویش
وفاقی آئینی عدالت میں سیمنٹ پیداوار رائلٹی کیس کی سماعت کے دوران پنجاب حکومت کی جانب سے رائلٹی کے نفاذ کے طریقۂ کار پر عدالت نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کیس کی سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جس میں مختلف قانونی نکات اور رائلٹی کے دائرہ کار پر تفصیلی ریمارکس دیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں:سرکاری ملازمین کی سینیارٹی سے متعلق وفاقی آئینی عدالت نے بڑا فیصلہ سنا دیا
سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ رائلٹی کا نفاذ معدنیات پر ہونا چاہیے نہ کہ سیمنٹ کی تیار شدہ بوری پر، کیونکہ فینشڈ پروڈکٹ پر رائلٹی عائد کرنے سے اس کا بوجھ بالآخر عوام پر منتقل ہوگا۔ جسٹس روزی خان نے کہا کہ فیکٹری مالکان کا نقصان نہیں ہوتا بلکہ رائلٹی کا اثر عام صارف تک پہنچتا ہے، جس سے سیمنٹ کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ حکومت فینش پروڈکٹ پر رائلٹی کیسے وصول کر سکتی ہے اور کیا اس کے نتیجے میں سیمنٹ کی بوری کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو اپنے لاء افسران کو اس معاملے پر واضح ہدایات دینی چاہئیں کہ اس نوعیت کا نفاذ قانونی طور پر مناسب نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:آن لائن بینک فراڈ کیس میں وفاقی آئینی عدالت کا شہری کے حق میں فیصلہ
عدالت میں وکیل احسن بھون نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت صرف معدنیات پر رائلٹی وصول کر سکتی ہے، جبکہ فینشڈ پروڈکٹ پر رائلٹی دراصل ایک بالواسطہ ٹیکس کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیمنٹ کی بوری پر رائلٹی کا نفاذ دراصل ڈبل ایکسائز ٹیکس کی وصولی کے برابر ہے۔
دورانِ سماعت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے حکومت سے مزید ہدایات لینے کے لیے مہلت دینے کی استدعا کی، جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے مزید وقت فراہم کر دیا۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پنجاب حکومت رائلٹی کیس سیمنٹ کیس وفاقی آئینی عدالت