55 سال کی عمر میں میٹرک کا امتحان پاس کرنے والے شخص نے مثال قائم کردی
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
پشین(نیوز ڈیسک)بلوچستان کے ضلع پشین سے تعلق رکھنے والے معمر شخص نے میٹرک کا امتحان پاس کے تاریخ رقم کردی۔
55 سالہ فیض الحق نے ثابت کردیا کہ تعلیم کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں۔ گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول نوآباد میں چپڑاسی کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے فیض الحق نے میٹرک کے امتحان میں 600 نمبر لے کر سیکنڈ ڈویژن میں کامیابی حاصل کی۔
فیض الحق چچا جوکہ پشین کلی نواباد ھائی اسکول میں نائب قاصدھے اب کلرک پروموشن کیلئے میٹرک کا امتحان دیا جوکہ پاس ھوگیا@CMShehbaz @CMOBalochistan pic.
— Hashim kakar (@Hashimkakar) July 8, 2025
ان کے نتیجے کا اعلان گزشتہ روز کیا گیا، جس کے بعد اسکول کے اساتذہ اور دیگر عملے نے اُنہیں کامیابی پر پھولوں کے ہار پہنائے اور خوب داد دی۔
فیض الحق کا کہنا ہے کہ بچپن میں گھر کی کفالت کی ذمہ داریوں نے اُنہیں پڑھائی سے دور رکھا، مگر دل میں تعلیم حاصل کرنے کی خواہش کبھی ختم نہیں ہوئی۔
اس خواب کی تعبیر انہیں اپنے اسکول کے اساتذہ اور عملے کی مسلسل حوصلہ افزائی اور مدد سے ملی۔ فیض الحق نے اپنی محنت اور عزم سے یہ پیغام دیا ہے کہ اگر لگن سچی ہو تو عمر علم حاصل کرنے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔
مزیدپڑھیں:ن لیگ کا ثمر بلور کو رکنِ قومی اسمبلی بنانے کا فیصلہ
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: فیض الحق
پڑھیں:
کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
کراچی:ملیر 15 کے علاقے میں سندھ رینجرز اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) پولیس کے مشترکہ آپریشن کے دوران مبینہ مقابلے میں تین ملزمان ہلاک جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔
چھیپا حکام کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مبینہ بھتہ خوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ تقریباً آدھے گھنٹے تک جاری رہا جس کے بعد تین ملزمان مارے گئے جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار ہوا۔
فائرنگ ختم ہونے کے بعد ہلاک اور زخمی ملزمان کو ریسکیو کی ایمبولینسوں کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے ملزمان کی شناخت شاہ رخ، راحب اور علی حمزہ کے ناموں سے ہوئی ہے جبکہ زخمی حالت میں گرفتار ملزم کی شناخت محمد وسیم کے نام سے کی گئی ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق ہلاک اور گرفتار ملزمان بھتہ خوری سمیت دیگر سنگین جرائم میں ملوث تھے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعے کی مزید تفتیش کر رہے ہیں اور ملزمان کے ممکنہ ساتھیوں کی تلاش بھی جاری ہے۔