چینی معیشت کوئی بھی بیرونی جھٹکا برداشت کرسکتی ہے، وزیراعظم لی چیانگ
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بیجنگ (انٹرنیشنل ڈیسک) چینی وزیر اعظم لی چیانگ نے کہا ہے کہ چینی معیشت کسی بھی بیرونی جھٹکے کو برداشت کرنے اور طویل مدتی مستحکم ترقی حاصل کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔ برازیل میں کام کرنے والے چینی کاروباری اداروں کے نمایندوں سے ملاقات میں انہوں نے کہا کہ سال کے آغاز سے چینی معیشت دباؤ میں ہے ،تاہم اس کے باوجود مسلسل اور مثبت رفتار کو برقرار رکھ رہی ہے۔ چینی وزیر اعظم سے ملاقات کرنے والوں میں میں بینک آف چائنا، گریٹ وال موٹر،اسٹیٹ گرڈ، گولڈ ونڈ سائنس اینڈ ٹیک، چین کے معروف فوڈ ٹریڈر (سی اوایف سی او)، گری الیکٹرک اپلائنسز، ڈاہوا ٹیکنالوجی اور زیڈ ٹی ٹی گروپ کی مقامی شاخوں کے سربراہان شامل تھے۔ اس موقع پر چینی وزیر اعظم نے کہا کہ حالیہ برسوں میں چینی کاروباری اداروں نے عالمی سطح پر جانے کی اپنی رفتار کو تیز کیا ہے اور بین الاقوامی آپریشنز کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنایا ہے، جو ملکی معیشت کو فروغ دینے میں تیزی سے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کاروباری اداروں کے لیے بہتر خدمات اور ضمانتیں فراہم کرے گی، اقتصادی اور تجارتی تعاون کے لئے مختلف میکانزم اور پلیٹ فارمز کی تعمیر کو مضبوط کرے گی اور بیرون ملک جامع سروس سسٹم کو بہتر بنائے گی۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ کاروباری اداروں کے لیے بہتر ماحول پیدا کرنے اور ان کی ترقی کو بہتر طریقے سے سہولت فراہم کرنے کے لیے پالیسی مشاورت، مالیات، کریڈٹ انشورنس اور سیکورٹی جیسے شعبوں میں زیادہ پالیسی سپورٹ متعارف کرائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی اقتصادی اور تجارتی منظر نامے میں یک طرفہ اور تحفظ پسندی کے عروج اور بڑھتی ہوئی تجارت اور سرمایہ کاری کی رکاوٹوں کے ساتھ گہری تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ اس کے ساتھ تکنیکی انقلاب اور صنعتی تبدیلی کا ایک نیا دور مزید آگے بڑھ رہا ہے، جو کاروباری اداروں کے لیے چیلنج اور مواقع دونوں پیش کر رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کاروباری اداروں کے نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
امریکہ کی ریاست ایڈاہو کے ایک خاموش اور خوبصورت پہاڑی علاقے سن ویلی(Sun Valley) میں ہر سال جولائی کے مہینے میں ایک ایسی تقریب ہوتی ہے جہاں دنیا کے امیر ترین اور بااثر افراد اکٹھے ہوتے ہیں۔
اس خاص اور خفیہ محفل کو غیر رسمی طور پر ”ارب پتیوں کا سمر کیمپ“ کہا جاتا ہے۔ یہاں دنیا کے نامور اور طاقتور لوگ جیسے جیف بیزوس، مارک زکربرگ، بل گیٹس اور ایلن مسک بغیر کسی دکھاوے کے ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں۔
یہ سلسلہ 1983 سے چلا آ رہا ہے جسے ایلن اینڈ کمپنی نامی ایک معاشی ادارہ منعقد کرواتا ہے۔ اس تقریب میں شامل ہونے کے لیے کوئی ٹکٹ نہیں خریدی جا سکتی اور نہ ہی انٹرنیٹ پر کوئی رجسٹریشن ہوتی ہے۔ یہاں صرف وہی لوگ آ سکتے ہیں جنہیں ذاتی طور پر دعوت نامہ بھیجا جاتا ہے۔ منتظمین کی طرف سے اس تقریب کی کوئی باقاعدہ مہمانوں کی فہرست یا شیڈول جاری نہیں کیا جاتا۔ اس سال یہ تقریب 7جولائی سے 11 جولائی 2026 تک منعقد ہوئی۔
اس کانفرنس کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ روایتی دفتری میٹنگز کی طرح نہیں ہوتی۔ یہاں نہ طویل اجلاس ہوتے ہیں اور نہ ہی بڑی بڑی پریزنٹیشنز۔
امیر ترین شخصیات سوٹ بوٹ پہننے کے بجائے عام جوتوں اور آرام دہ کپڑوں میں نظر آتی ہیں۔ لوگ دن کے وقت پہاڑوں پر سیر کرتے ہیں، گولف کھیلتے ہیں، سائیکل چلاتے ہیں، مچھلی پکڑتے ہیں اور شام کو مل کر کھانا کھاتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
اس سال کی ملاقات میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی اے آئی کا موضوع سب سے زیادہ چھایا رہا۔ اس تقریب میں ٹیکنالوجی اور کاروبار کی دنیا کے کئی بڑے نام شامل ہوئے۔
اگرچہ اس کیمپ میں میڈیا اور کیمروں کی اجازت نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی بڑا باضابطہ اعلان کیا جاتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی بڑے کاروباری معاہدوں کی بنیاد اسی خاموش جگہ پر رکھی جاتی ہے جو بعد میں دنیا کے سامنے آتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے شرکا اپنے اہلِ خانہ کو بھی ساتھ لاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ تقریب ایک کاروباری اجلاس سے زیادہ ایک پُرتعیش خاندانی تعطیلات کا منظر پیش کرتی ہے۔ تاہم، اس کے باوجود دنیا بھر کی نظریں ہر سال اس خفیہ سمر کیمپ پر لگی رہتی ہیں، کیونکہ یہاں ہونے والی ملاقاتیں مستقبل کی عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کی سمت کا تعین بھی کر سکتی ہیں۔