توانائی پالیسیاں معیشت کو تباہی کی طرف لے جارہی ہیں ، میاں زاہد حسین
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (کامرس رپورٹر)نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولزفورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، ایف پی سی سی ائی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین اورسابق صوبائی وزیرمیاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ موجودہ توانائی پالیسی اورٹیکس اقدامات نے ملکی صنعتوں کے لیے زمین تنگ کردی ہے۔ یہ پالیسیاں ترقی کا ذریعہ بننے کے بجائے معیشت کے لیے زہرثابت ہورہی ہیں، جس کے نتیجے میں بہت سی صنعتوں کا چلنا محال ہوگیا ہے۔ ارباب اختیاربجٹ اقدامات پرغور کریں اور توانائی پالیسیوں کوملکی حالات اورمفادات کے مطابق ڈھالیں۔ میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ فرنس آئل پرعائد پیٹرولیم لیوی اورکلائمٹ سپورٹ لیوی کے بعد اسکی کل مالیت کا ساٹھ فیصد ٹیکسوں پرمشتمل ہو گیا ہے جوحیران کن ہے۔ انھوں نے کہا کہ ماضی میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ کے دوران صنعتوں نے کیپٹو جنریشن کے ذریعیخود بجلی پیدا کرکے زندہ رہنے کی کوشش کی کچھ نے گیس اورکچھ نے فرنس آئل استعمال کیا۔ مگرحکومت نے ائی پی پی منصوبے لگا کراضافی بجلی پیدا کی اورصنعتوں کومہنگی بجلی خریدنے پرمجبورکردیا۔ اب جب گیس مہنگی کی گئی توصنعتیں دوبارہ فرنس آئل استعمال کرنے لگیں جسے اب اتنا مہنگا کردیا گیا ہے کہ صنعت چلانا ممکن نہیں رہا۔ وہ صنعتیں جوکولنگ سسٹمزپرانحصارکرتی ہیں یا جنہیں بجلی مسلسل درکارہوتی ہے شدید مشکلات کا شکارہیں۔ نہ صرف بجلی مہنگی ہوگئی ہے بلکہ متبادل ذرائع پرمنتقلی بھی مشکل بنا دی گئی ہے جس سے کارخانہ مالکان کواضافی لاگت برداشت کرنا پڑرہی ہے جوصنعتوں کوتباہ کرنے کے مترادف ہے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ مقامی ریفائنریاں بھی اب فرنس آئل کے خریدارنہ ہونے کی وجہ سے مشکلات میں ہیں کیونکہ طلب میں کمی کے سبب اس کی فروخت مشکل ہوگئی ہے۔ فرنس آئل برآمد کرنا مہنگا اورپیچیدہ عمل ہے اوراگرریفائنریاں پیداوارکم کریں توپیٹرول اورڈیزل کی مقامی فراہمی متاثرہوسکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ گیس کمپنیاں بھی بحران کا شکارہیں۔ بہت سی صنعتوں نے گیس استعمال تقریباً ترک کردیا ہے مگرحکومت مہنگی درآمدی گیس خریدنے پربضد ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: زاہد حسین نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
لندن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری سلامتی کے بڑھتے خدشات کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنی کپلر کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 23 جولائی کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، جو 7 مئی کے بعد سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے تین آئل ٹینکر گزرے تھے جبکہ 23 جولائی کو کوئی بھی جہاز اس آبی گزرگاہ میں داخل نہیں ہوا۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری فوجی کشیدگی، بحری جہازوں پر حملوں کے خدشات اور آبنائے ہرمز میں سلامتی کی غیر یقینی صورتحال نے شپنگ کمپنیوں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے باعث کئی جہاز متبادل راستوں یا روانگی میں تاخیر کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔