بلاول بھٹو زرداری عالمی سطح پر پاکستان کی باوقار آواز بن چکے ہیں، شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 10 جولائی2025ء)سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری عالمی سطح پر پاکستان کی باوقار آواز بن چکے ہیں۔چیئرمین پیپلز پارٹی کے انٹرویو کے حوالے سے اپنے بیان میں شرجیل میمن نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کرن تھاپر کو دیا گیا انٹرویو پاکستان کی ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے۔
بلاول بھٹو نہ صرف نوجوان قیادت کے نمائندہ ہیں بلکہ پاکستان کے لیے ایک باوقار عالمی آواز بھی بنتے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی جیسے نہایت حساس موضوع پر بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا مقدمہ جس اعتماد، تیاری اور تدبر سے پیش کیا گیا، وہ قابلِ ستائش ہے۔ کرن تھاپر جیسے سخت گیر اور تجربہ کار صحافی کے سامنے اس اعتماد سے بات کرنا اور انہیں دفاعی پوزیشن پر لانا بلاول بھٹو کی سیاسی بصیرت اور سفارتی مہارت کا ثبوت ہے۔(جاری ہے)
شرجیل میمن نے کہا کہ انٹرویو کے دوران کرن تھاپر بار بار الجھے اور غیر متوازن نظر آئے جب کہ بلاول بھٹو پورے مکالمے میں مدلل، پراعتماد اور واضح موقف کے ساتھ نمایاں رہے۔ کرن تھاپر وہی صحافی ہیں جن کے انٹرویو کے دوران نریندر مودی مائیک اتار کر چلے گئے تھے۔سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا کہ چیئرمین بلاول نہ صرف کرن تھاپر کے سامنے ڈٹے رہے بلکہ گفتگو کا رخ اپنے حق میں موڑ لیا۔ یہ انٹرویو صرف الفاظ کی ادائیگی نہیں بلکہ پاکستان کی مثر سفارتی نمائندگی تھا، جس کی آج کے عالمی منظرنامے میں شدید ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو صرف ایک سیاستدان نہیں بلکہ تین نسلوں کے سیاسی اور نظریاتی تسلسل کے وارث ہیں۔ پیپلز پارٹی کی قیادت عارضی مقبولیت کی بنیاد پر سیاست نہیں کرتی، یہ قیادت تاریخ کے شعور کے ساتھ مسلسل آگے بڑھتی رہی ہے۔ چیئرمین بلاول کا انٹرویو سیاسی بلوغت، نظریاتی پختگی اور بھرپور تیاری کا مظہر تھا۔صوبائی وزیر نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ صرف ایک میڈیا سیشن نہیں بلکہ پاکستان کی تاریخ، موقف اور وژن کی مکمل ترجمانی تھا۔ پیپلز پارٹی کا مقف ہمیشہ سے دہشت گردی، کشمیر اور بھارت سے تعلقات جیسے اہم معاملات پر واضح اور اصولی رہا ہے۔ پارٹی نے ہر سطح پر دہشت گردی کے خلاف مثر مزاحمت کی ہے اور اس کی قیادت خود اس جنگ میں قربانیاں دیتی آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ جب بلاول بھٹو بولتے ہیں، تو وہ صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک نظریہ، تاریخ، اور عوامی جدوجہد کی زبان بولتے ہیں۔ بلاول بھٹو نے دنیا کو باور کرایا کہ پاکستان دفاعی نہیں، بلکہ دلیل، اصول اور تاریخ کے ساتھ اپنی خارجہ پالیسی آگے بڑھا رہا ہے۔شرجیل انعام میمن نے کہاکہ بھارت کے ساتھ تجارت، گیس پائپ لائن منصوبے اور مسئلہ کشمیر جیسے معاملات پر پیپلز پارٹی کا مقف ہمیشہ قومی مفاد اور جمہوری اصولوں پر مبنی رہا ہے۔ بھٹو ازم صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک جامع سیاسی، سماجی اور معاشی نظریہ ہے اور بلاول بھٹو آج اسی نظریے کے تسلسل کے طور پر ابھر رہے ہیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پیپلز پارٹی میمن نے کہا شرجیل میمن کہ پاکستان پاکستان کی بلاول بھٹو نہیں بلکہ کرن تھاپر نے کہا کہ ہیں بلکہ کے ساتھ صرف ایک
پڑھیں:
سیاستدان امیر دوستوں کو مراعات دینا، غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں: بلاول
اسلام آباد ( نمائندہ خصوصی) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سکردو کے مین بازار میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابی مہم میں آپ کے پاس آیا تھا اور جی بی کی ہر تحصیل میں گیا۔ ہمارا صرف سیاسی رشتہ نہیں بلکہ نسلوں کا ساتھ ہے۔ میں یہ مہم بھی گزشتہ انتخابی مہم کی طرح کرنا چاہتا تھا۔ گزشتہ انتخابات میں خوشی کا ماحول تھا لیکن اب ہم سب کے لئے غم کا ماحول ہے۔ ایران میں جو شہادتیں ہوئی ہیں، بچیوں کو شہید کیا گیا ہے یہ غم کا ماحول ہے۔ جس طرح رمضان میں آیت اللہ علی خامنہ ای کو، ان کی نواسی کے شہید کیا گیا وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی امن پسند اور جنگ کے خلاف ہے۔ یہ کہانی ایران تک نہیں فلسطین اور لبنا ن میں بھی بے گنا ہ لوگوں کو شہید کیا گیا۔ فیلڈ مارشل امن کی جو کوشش کر رہے ہیں، ہم سب دعاگو ہیں کہ یہ کوشش کامیاب ہو۔ پوری مسلم دنیا اور دنیا بھر کے نوجوان اس جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اس جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بے تحاشا بڑھ گئی ہے۔ اس لئے ہم اس جنگ کو ختم ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی سیاست باقی جماعتوں سے مختلف ہے۔ ہم پسماندہ طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کو حقوق دیتے ہیں اور غریب کا سوچتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کی ترقی پسماندہ طبقے کی ترقی سے ہے۔ باقی جماعتیں امیروں کو مزید امیر بنانے کی پالیسی اختیار کرتے ہیں اور اسے نام ترقی کا دیا جاتا ہے۔ صدر زرداری نے اپنے پہلے دور حکومت میں بی آئی ایس پی بنا کر روٹی، کپڑا اور مکان کو عملی شکل دی۔ بطور وزیرخارجہ مجھ سے دوسرے ممالک پوچھتے تھے کہ ہم بی آئی ایس پی کے ذریعے اپنے غریبوں کی بھی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ بدقسمتی اس ملک کی یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ایسی ہیں کہ وہ سوچتی ہیں کہ اپنے امیر دوستوں کے لئے مراعات کیسے دیں اور وہ بی آئی ایس پی کی غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بی آئی ایس پی کی مدد پورے ملک کے غریب عوام کو ملتی ہے۔ ماؤں کی دعاؤں کی وجہ سے ان کی بی آئی ایس پی کو ختم کرنے کی سازش ناکام ہوگی۔ وزیراعظم آنے والے بجٹ میں بی آئی ایس پی میں اضافے کا اعلان کریں گے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی نے ملک کی دفاعی صلاحیت مضبوط کی ہے۔ اس وقت پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے اور کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا۔ یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے تحفہ دیا ہے۔ وہ گڑھی خدا بخش سے پاکستان کا دفاع کر رہے ہیں۔ شہید بی بی نے میزائل ٹیکنالوجی دی کہ وہ اس بم کو لے کر دشمن تک پہنچ سکتے ہیں۔ آج پاکستان کا دفاع اسی وجہ سے ناقابل تسخیر ہے۔ اس کے بعد مشرف کا دور گزرا کہ جب دوسرے ممالک کو Bases بنانے کی اجازت دی گئی۔ صدر زرداری نے سلالہ واقعے کے بعد سارے فوجی اڈوں کو بند کیا۔ ہمیں تین اصولوں حق حاکمیت ، حق ملکیت اور حق روزگار پر عمل کرنا ہوگا۔ یہ تب ہوگا جب اٹھارہویں ترمیم کے مطابق دیگر صوبوں کی طرح حقوق جی بی کو بھی ملیں۔ آپ کے پہاڑوں کے نیچے جو وسائل ہیں ان پر حق جی بی کے عوام کا ہے۔ وسائل پر پہلا حق جی بی کے عوام کا ہے اور اگر یہ حق ملکیت مل جائے تو پاکستان کی ترقی ہوگی جس طرح تھر کے کوئلے سے پورا پاکستان مستفید ہو رہا ہے۔ تھر کے منصوبے سے تھر کے عوام کو مفت بجلی دیتے ہیں۔ ہم نے تھر کے عوام کو تھر کول منصوبے میں ان کا شیئر دینا چاہا لیکن ان لوگوں نے پیسے لے لئے لیکن آپ کو اپنے وسائل میں شیئر لینا چاہیے۔ سی پیک کا سب سے بڑا منصوبہ تھرکول کا ہے۔ جب آپ کو حق ملکیت ملے گا تو آپ وسائل کے حصہ دار ہوں گے۔ ہماری سیاست عوام دوست اور غریب دوست ہے جبکہ دیگر لوگوں کی سیاست غریب دشمن اور امیردوست ہوتی ہے۔ اس لئے تیر پر مہر لگا کر غریب دوست حکومت بنائیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا میں جانتا ہوں کہ آپ کے ہاں بارشوں اور سیلاب سے بہت نقصان ہوتا ہے۔ سندھ میں بھی 2022 میں سیلاب آیا اور دو تہائی سندھ پانی کے نیچے چلا گیا۔ اس وقت سارے غریب لوگ مطالبہ کر رہے تھے کہ انہیں گھر بنا کر دئیے جائیں۔ یہ پاکستان کی پہلی حکومت جس نے غریب لوگوں کو گھر بنا کر دئیے۔ میں کسی صوبے سے نہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرتا ہوں اور 20 لاکھ گھر بنانے کا منصوبہ دنیا میں سب سے بڑا منصوبہ ہے۔ 7 جون کو تیر پر مہر لگائی تو اسی طرح جی بی کی خواتین کو بھی گھر بنا کر دیں گے۔ سندھ کا این آئی سی وی ڈی، این آئی سی ایچ، ایس آئی یو ٹی اور ڈاؤ میڈیکل کالج سے لے کر گمبٹ تک دل، گردے، کینسر اور جگر کا علاج پورے پاکستان کے عوام کو مفت مہیا کرتے ہیں۔ دیگر صوبے ہسپتالوں کی نجکاری کرتے ہیں تاکہ ان کے امیر دوستوں کو فائدہ ہو۔ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو علاج سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 7جون کو انشاء اللہ جی بی کے عوام باہر نکلیں گے اور تیر پر مہر لگا کر پیپلزپارٹی کی حکومت بنائیں گے تاکہ حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار، مفت علاج کے ادارے اور گھر بنانے کا منصوبہ شروع ہو سکے۔ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے جی بی کے عوام کی خدمت کریں گے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ آصفہ بی بی کو لے کر سکردو آئے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ جس طرح بلتستان کے عوام نے انہیں کبھی مایوس نہیں کیا اسی طرح بی بی آصفہ کو بھی مایوس نہیں کریں گے۔ خطاب کے آخر میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوام کے ساتھ مل کر پارٹی کے لئے نعرے لگوائے۔