باجوڑ میں فائرنگ سے عوامی نیشنل پارٹی کے اہم رہنما ساتھی سمیت جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ میں عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق امیدوار قومی اسمبلی مولانا خان زیب قاتلانہ حملے میں ساتھی سمیت شہید ہوگئے۔
ایکسپریس نیز کے مطابق باجوڑ کی تحصیل خار کے ہیڈکوارٹر سے چند قدم فاصلے پر شنڈئی موڑ پر نامعلوم افراد کی جانب سے مولانا خان زیب کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی جس میں تین افراد زخمی ہوئے۔
حملے میں عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری برائے امور علما اور باجوڑ موقع پر شہید ہوگئے جبکہ سیکیورٹی پر مامور اہلکار شیر زادہ بھی شہید ہوگئے۔
فائرنگ سے زخمیوں میں ڈاکٹر طارق، شاہ سوار اور عثمان شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق مولانا خان زیب باجوڑ میں 13 جولائی کو ہونے والے امن مارچ کے حوالے سے مہم چلا رہے تھے کہ شنڈئی موڑ میں نامعلوم افراد نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس سے مولانا خان زیب اور پولیس اہلکار شیر زادہ موقع پر شہید ہو گئے جبکہ تین ساتھی شدید زخمی ہو گئے۔
مولانا خان زیب کی نماز جنازہ آج 11 جولائی بروز جمعہ دن 11 بجے آبائی علاقہ ناوگئی میں ادا کی جائیگی۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اے این پی رہنما مولانا خان زیب کو فائرنگ کا نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے مولانا خان زیب سمیت دو افراد کے جاں بحق ہونے پرافسوس کا اظہار کیا ہے۔
گورنر نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کی مغفرت اور پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ سوگوار خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں، المناک واقعہ پر اے این پی قیادت و کارکنوں اور سوگوار خاندان سے دلی تعزیت کرتا ہوں۔
علاوہ ازیں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ڈیرہ اسماعیل خان میں چشمہ روڈ پر ٹریفک حادثہ میں 5 افراد کے جاں بحق ہونے پر بھی دلی افسوس کا اظہار کیا۔
انہوں نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کرتے ہوئے غمزدہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ حادثہ انتہائی افسوسناک ہے، غمزدہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مولانا خان زیب افراد کے کا اظہار
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔