پارلیمنٹ لاجز کی ابتر حالت، سینیٹ ہاؤس کمیٹی کا اظہار برہمی — اصلاحات اور ماہانہ نگرانی کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
اسلام آباد: ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر کی زیر صدارت سینیٹ ہاؤس کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں پارلیمنٹ لاجز کی خراب حالت اور بنیادی سہولیات کی کمی پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی نے لاجز کی فوری مرمت، انتظامی اصلاحات، اور ہر ماہ باقاعدہ اجلاس کے انعقاد کا فیصلہ کیا۔
اجلاس میں پارلیمنٹ لاجز کی مجموعی حالت، بنیادی سہولیات، مرمت و بحالی کے امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ 104 نئے سوئٹس کی تعمیر سمیت اہم معاملات بھی زیر غور آئے۔ کمیٹی ارکان نے لاجز کی ناقص حالت اور روزمرہ سہولیات کی عدم فراہمی پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا۔
سینیٹر پونجو بھیل نے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ کو چھوٹی چھوٹی ضروریات پوری کرنے میں بھی شدید مشکلات درپیش ہیں، جو انتظامی نااہلی کی واضح مثال ہے۔ سینیٹر کامل علی آغا نے سی ڈی اے افسران کے غیر سنجیدہ رویے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ ایسا رویہ ناقابل قبول ہے۔
سینیٹر خلیل طاہر سندھو نے سابق الاٹیز کی جانب سے بجلی کے واجبات کی عدم ادائیگی کا مسئلہ اٹھایا اور مطالبہ کیا کہ سی ڈی اے فوری طور پر واجبات کی وصولی یقینی بنائے۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کمیٹی کو یقین دہانی کروائی کہ پارلیمنٹ لاجز میں اصلاحات کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق 104 نئے فلیٹس کی تعمیر، مرمت، اور دیگر مسائل کے حل کے لیے جامع حکمت عملی وضع کر لی گئی ہے، اور اس مقصد کے لیے خاطر خواہ فنڈز بھی مختص کیے گئے ہیں۔
حکام نے بتایا کہ گزشتہ دو سال کے واجبات کی عدم ادائیگی سے مرمتی کاموں میں تاخیر کا سامنا ہے۔ اس تناظر میں پارلیمنٹ لاجز کے مؤثر انتظام کے لیے سینیٹ ہاؤس کمیٹی کا ماہانہ اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
کمیٹی نے سی ڈی اے کو ہدایت دی کہ مرمت و دیکھ بھال کے لیے دیانتدار اور فعال عملہ تعینات کیا جائے، جب کہ طویل عرصے سے تعینات عملے کو فوری طور پر تبدیل کیا جائے۔ ساتھ ہی، سابق ارکان کی جانب سے لاجز پر غیر قانونی قبضوں کا سخت نوٹس لیتے ہوئے فوری بے دخلی کی سفارش بھی کر دی گئی۔
مزید برآں، کمیٹی نے زور دیا کہ خواتین ارکان پارلیمنٹ کے لاجز کی مرمت و دیکھ بھال ترجیحی بنیادوں پر کی جائے تاکہ انہیں درپیش مشکلات کا فوری ازالہ ممکن ہو سکے۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پارلیمنٹ لاجز لاجز کی کے لیے
پڑھیں:
گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔