خیبر پختونخوا میں سینیٹ الیکشن سے قبل ووٹ کی مبینہ خرید و فروخت کا انکشاف، پی ٹی آئی کا اہم اجلاس طلب
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
خیبر پختونخوا میں سینیٹ انتخابات کے قریب آتے ہی سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور ساتھ ہی ووٹوں کی مبینہ خرید و فروخت کی اطلاعات بھی سامنے آ گئی ہیں۔ حکومتی جماعت تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے بعض ارکان اسمبلی نے انکشاف کیا ہے کہ اپوزیشن کے امیدوار ان سے رابطے کر رہے ہیں اور ووٹ کے بدلے مالی فوائد کی پیشکش کر رہے ہیں اس معاملے پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ارکان اسمبلی سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے اور ہدایت دی ہے کہ ایسے کسی بھی رابطے کی معلومات سے انہیں باخبر رکھا جائے تحریک انصاف کے ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں گزشتہ شب پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا جس میں سینیٹ الیکشن اور پانچ اگست کو مجوزہ احتجاج کے حوالے سے مشاورت کی گئی۔ اجلاس کے بعد ارکان کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں بعض ارکان نے یہ شکوہ بھی کیا کہ ہر بار احتجاج کے لیے خیبر پختونخوا کے کارکنوں کو آگے لایا جاتا ہے جبکہ پنجاب اور اسلام آباد کے کارکنان غیر فعال رہتے ہیں اس لیے آئندہ احتجاج میں دیگر صوبوں کو بھی متحرک کیا جائے پارٹی ذرائع کے مطابق سینیٹ الیکشن سے متعلق شکایات کے علاوہ آئندہ احتجاج کے لائحہ عمل پر بھی گفتگو ہوئی۔ پارٹی نے تمام صوبوں سے ارکان اسمبلی کو کل ہفتے کے روز لاہور طلب کر لیا ہے جہاں پانچ اگست کے احتجاج کے بارے میں حتمی حکمت عملی طے کی جائے گی اس حوالے سے پی ٹی آئی کے ترجمان ملک عدیل کا کہنا تھا کہ اجلاس میں ارکان سے سینیٹ الیکشن میں پیسوں کی آفر کے بارے میں رائے لی گئی اور ارکان سے کہا گیا کہ اگر کوئی ایسا رابطہ ہوتا ہے تو فوری طور پر وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ احتجاجی لائحہ عمل پر حتمی فیصلہ لاہور میں ہونے والے آئندہ اجلاس میں کیا جائے گا اور جو بھی فیصلہ قیادت کرے گی پارٹی اس پر مکمل عمل کرے گی
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا سینیٹ الیکشن احتجاج کے
پڑھیں:
بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
اسلام آباد (ًؐنمائندہ خصوصی +نوائے وقت رپورٹ) وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس ملتوی ہو گیا جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ پیش کرنے کی نئی تاریخ کا تعین نہیں ہو سکا، دوسری جانب ذرائع قومی اسمبلی کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی وجہ سامنے آگئی۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق حکومت بجٹ اجلاس سے قبل اہم قانون سازی کرنا چاہ رہی ہے، قانون سازی کے آئندہ وفاقی بجٹ سے متعلق اہم اثرات ہوں گے تاہم پیپلز پارٹی قانون سازی کے حق میں نہیں ہے۔ پارلیمانی ذرائع کا بتانا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شگر ویلی میں اپنے خطاب میں واضح پیغام دیا ہے، پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالفت کر رہی ہے۔ بجٹ اجلاس سے قبل ترامیم نہ ہو سکیں تو آئندہ مالی سال میں تبدیلیاں نہیں آسکیں گی۔ پارلیمانی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پیپلز پارٹی کو منانے کے لیے اہم شخصیات کو ٹاسک دے دیا گیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری فی الحال گلگت بلتستان میں الیکشن مہم میں مصروف ہیں، بلاول بھٹو زرداری کو منانے کے بعد ہی بجٹ اجلاس کی نئی تاریخ دی جا سکے گی۔وزارت خزانہ میں پیپلز پارٹی اور حکومتی ٹیم کے درمیان اجلاس ختم ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کئے جا سکے۔ پی پی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہو گا۔