کراچی چیمبر کی حمایت، 19 جولائی کو جوڑیا بازار بند رکھنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن کے چئیرمین رؤف ابراہیم نے کہا کہ حکومت اس قانون کو واپس لے بصورت دیگر ملک میں شٹرڈاؤن کا نیا تسلسل شروع ہو جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن نے بھی کراچی چیمبر کی جانب سے 19 جولائی کی ہڑتال کی حمایت میں سب سے بڑی تھوک اجناس مارکیٹ جوڑیا بازار بند رکھنے کا اعلان کر دیا۔ ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن کے چئیرمین رؤف ابراہیم نے کہا ہے کہ ایف بی آر کو سیکشن 37 اے اور بی کے تحت دیئے گئے لامحدود اختیارات کو تسلیم نہیں کرتے، ایسے اختیارات سے ریونیو کا مقررہ 1400 ارب روپے کی وصولیاں نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اختیارات سے خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہو سکتا ہے، جس سے ملک میں سرمایہ کاری اور تجارتی حجم میں اضافہ بھی ناممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس قانون کو واپس لے بصورت دیگر ملک میں شٹرڈاؤن کا نیا تسلسل شروع ہو جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے کہا
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔