ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن کے چئیرمین رؤف ابراہیم نے کہا کہ حکومت اس قانون کو واپس لے بصورت دیگر ملک میں شٹرڈاؤن کا نیا تسلسل شروع ہو جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن نے بھی کراچی چیمبر کی جانب سے 19 جولائی کی ہڑتال کی حمایت میں سب سے بڑی تھوک اجناس مارکیٹ جوڑیا بازار بند رکھنے کا اعلان کر دیا۔ ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن کے چئیرمین رؤف ابراہیم نے کہا ہے کہ ایف بی آر کو سیکشن 37 اے اور بی کے تحت دیئے گئے لامحدود اختیارات کو تسلیم نہیں کرتے، ایسے اختیارات سے ریونیو کا مقررہ 1400 ارب روپے کی وصولیاں نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اختیارات سے خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہو سکتا ہے، جس سے ملک میں سرمایہ کاری اور تجارتی حجم میں اضافہ بھی ناممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس قانون کو واپس لے بصورت دیگر ملک میں شٹرڈاؤن کا نیا تسلسل شروع ہو جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نے کہا

پڑھیں:

شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے وکالت شروع کرنے کا اعلان کر دیا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ 50 سال بعد زندگی گزارنے کے بعد راولپنڈی بار نے میری ممبر شپ بحال کر دی. 50 سال بعد بار کا تاحیات ممبر بن گیا ہوں۔انہوں نے کہا کہ میری کوشش ہو گی کہ سچائی، قانون اور ملک کی بہتری کے لئے کام کروں. غریب آدمی کے لئے قانونی، عملی اور عملی خدمت کروں گا۔

واضح رہے شیخ رشید نے سردار رزاق چیمبر کے ذریعے ڈسٹرکٹ بار روالپنؔڈی میں اپنی رکنیت بحالی کی درخواست دائر کر دی تھی۔

متعلقہ مضامین

  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز رات 9، ریسٹورنٹ 11 بجے تک کھلیں گے
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • شیخ رشید نے راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار میں رکنیت بحالی کی درخواست جمع کرا دی
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟