فرسودہ نظام سے ترقی ممکن نہیں، عالمی شہرت یافتہ ماہرین کی معاونت ضروری: وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
اسلام آباد (خبرنگار خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ+ آئی این پی) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ سات دہائیوں سے اس ملک کو جس نظام سے چلانے کی کوشش کی گئی اس سے پاکستان کی ترقی ممکن نہیں، فرسودہ نظام کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کئے بغیر معاشی ترقی اور خوشحالی نہیں آسکتی۔ شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں وزارت بجلی کی جانب سے گورننس کی بہتری اور اصلاحات کیلئے ماہرین پر مشتمل نظام پر بریفنگ دی گئی۔ وزیر اعظم نے وزارتوں کی کارکردگی بڑھانے کیلئے ہر شعبے کے ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کی ہدایت کردی۔ شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان وسائل سے مالامال ہے، پاکستان کی نوجوان افرادی قوت پاکستان کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے، باصلاحیت پاکستانی پوری دنیا میں ملک و قوم کا نام روشن کررہے ہیں۔ حکومت کی اولین ترجیحات میں فرسودہ نظام کو جدید ڈیجیٹل اور مؤثر گورننس کے نظام میں تبدیل کرنا ہے، اویس لغاری اور ان کی ٹیم کی انتھک محنت قابل تعریف ہے، وزارت بجلی کی اصلاحات، نقصانات میں کمی اور قومی خزانے کو اربوں روپے کی بچت باقی وزارتوں کیلئے قابل تقلید مثال ہے۔ نظام کی تبدیلی کیلئے بین الاقوامی شہرت یافتہ ماہرین کی معاونت انتہائی ضروری ہے، شعبے کے ماہرین اور کنسلٹنٹس جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اصلاحات سے نئی سوچ اور گورننس کے طریقہ کار کو رائج کرنے میں معاون ہوں گے۔ وزیراعظم نے بہترین افرادی قوت کی بھرتی، وزارتوں کو جدید نظام سے ہم آہنگ کرنے اور اصلاحات سے گورننس کی بہتری کی تجاویز کے حوالے سے کمیٹی کے قیام کی بھی ہدایت کردی۔ کمیٹی وزارت بجلی کی اصلاحات کو مد نظر رکھتے ہوئے باقی وزارتوں و اداروں کی تنظیمِ نو کے حوالے سے قابل عمل تجاویز کو حتمی شکل دے گی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ نیشنل الیکٹرسٹی پلان کے تحت وزارت میں 134 تزویراتی ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنایا گیا ہے۔ اجلاس کو شعبے کے ماہرین کی پروفائلز اور رائج کردہ نظام کے تحت وزارت کی موجودہ ورکنگ کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔ عالمی یوم آبادی کے موقع پر پیغام میں وزیر اعظم نے کہا ہے کہ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی آبادی میں پائیدار اضافے اور جامع ترقی کے لیے موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس سال عالمی یوم آبادی کا موضوع نوجوانوں کو بااختیار بنانا ہے، جو پاکستان کے موجودہ آبادیاتی منظرنامے کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ماہرین کی
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔