چیف جسٹس کی زیرصدارت سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس، ججزکی کارکردگی کا جائزہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 12 جولائی2025ء) سپریم جوڈیشل کونسل کا اہم اجلاس چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں ختم ہو گیا، کچھ دیر میں اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق اہم اجلاس میں اعلیٰ عدلیہ سے تعلق رکھنے والے ججز بھی شریک ہیں جن میں سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر کونسل ممبر کی حیثیت سے جبکہ لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم اور سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جنید غفار بھی شریک ہیں۔
(جاری ہے)
ذرائع کا کہنا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے اہم اجلاس میں ججز کے خلاف موصول ہونے والی شکایات اور کارکردگی کا جائزہ لیا گیا، اجلاس کے دوران اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی جانب سے تحریر کیے گئے خطوط کے تناظر میں عدالتی کوڈ آف کنڈکٹ پر بھی غور کیا گیا۔سپریم جوڈیشل کونسل کا یہ اجلاس عدالتی نظام کی شفافیت اور معیارکو برقرار رکھنے کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے، اجلاس کے دوران ججز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور ان کے رویے پر بھی غور کیا گیا۔یہ کونسل ججز کی شکایات کی سماعت اور ان کی کارکردگی کی جانچ کے لیے قانونی طور پر بااختیار ادارہ ہے جس کا مقصد عدلیہ کی مضبوطی اور عوامی اعتماد کو بڑھانا ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سپریم جوڈیشل کونسل چیف جسٹس
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔