چیف جسٹس کی سربراہی میں اجلاس، لاپتا افراد کے معاملے پر سمجھوتہ نہ کرنے اور گہری تشویش کا اظہار WhatsAppFacebookTwitter 0 11 July, 2025 سب نیوز

اسلام آباد(سب نیوز)چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کے اجلاس میں ملک میں لاپتا افراد کے معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔
چیف جسٹس یحیی آفریدی کی سربراہی میں قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کا اجلاس ہوا جہاں ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور تمام ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس سردار سرفراز ڈوگر، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عالیہ نیلم، چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ اور چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ اور چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس عتیق شاہ نے شرکت کی۔
قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے لاپتا افراد کے معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ عدلیہ بنیادی حقوق کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔اس ضمن میں کہا گیا کہ لاپتا افراد کے معاملے پر ادارہ جاتی رسپانس کے لیے اعلی سطح کی کمیٹی قائم کی گئی ہے، لاپتا افراد سے متعلق اعلی سطح کی کمیٹی معاملے پر ایگزیکٹو کے تحفظات پر بھی غور کرے گی۔
کمیٹی کے اجلاس میں جوڈیشل افسران کو بیرونی مداخلت سے تحفظ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، ہائی کورٹس میں جوڈیشل افسران کو بیرونی مداخلت سے تحفظ کے ڈھانچے کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔اعلامیے کے مطابق بیرونی مداخلت کی کسی قسم کی شکایات متعلقہ فورم پر دائر جائیں گی، جوڈیشل افسران کی بیرونی مداخلت کی شکایات کو مقررہ ٹائم فریم میں ایڈریس کیا جائے گا۔
کمیٹی نے تجارتی مقدمات کے فوری حل کے لیے کمرشل لیٹگیشن کوریڈور کے قیام کی منظوری دے دی، فوری انصاف کے عزم کے تحت ڈبل ڈاکٹ کورٹ ریجیم کا منتخب اضلاع میں آزمائشی طور پر نافذ کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔اعلامیے میں کہا گیا کہ مالیاتی اور ٹیکس معاملات سے متعلق آئینی درخواستیں ہائی کورٹس میں ڈویژن بینچز کے ذریعے سنی جائیں گی۔اسی طرح فوجداری مقدمات کے التوا کو کم کرنے کے لیے ماڈل کریمنل ٹرائل کورٹس کا فریم ورک منظور کیا گیا۔
کمیٹی اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ جسٹس(ر)رحمت حسین کی سربراہی میں ضلعی عدلیہ میں یکسانیت اور اعلی معیار یقینی بنانے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی، بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، ہائی کورٹس کے رجسٹرارز اور فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل شامل ہوں گے۔قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے ججوں کے لیے وکلا کی بھرتی کے لیے پروفیشنل ایکسیلنس انڈیکس کی تیاری کی منظوری دے دی۔
کمیٹی نے پنجاب پولیس کے انسپکٹر جنرل (آئی جی)کی اصلاحات پر مبنی تفصیلی پریزنٹیشن کو سراہا اور اجلاس میں زیر سماعت قیدیوں اور سرکاری گواہوں کی حاضری کے لیے ویڈیو لنک کے ایس او پی جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور جوڈیشل اکیڈمیز پولیس افسران کے لیے تربیت کا انعقاد کریں گی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرکوہستان کرپشن اسکینڈل،3ارب کی کرپشن میں پلی بارگین کی درخواست کوہستان کرپشن اسکینڈل،3ارب کی کرپشن میں پلی بارگین کی درخواست عدالت عظمی آزاد کشمیر کے حکم پر سیشن جج راجہ امتیاز بدعنوانی پر ملازمت سے برطرف چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت اجلاس، اسلام آباد کو مزید خوبصورت بنانے کیلئے بیوٹیفکیشن پلان پر عملدرآمدپر جائزہ بانی تحریک انقلاب پاکستان محمد عارف نے ایلون مسک کی امریکا پارٹی جوائن کر لی پاکستان کا ایشیا کپ کیلئے ہاکی ٹیم کو بھارت نہ بھیجنے کا فیصلہ اسلام آباد، مطیع اللہ جان اور اسد طور کے یوٹیوب چینل کی بندش کا حکم معطل TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: گہری تشویش کا اظہار کی سربراہی میں بیرونی مداخلت میں کہا گیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ چیف جسٹس کمیٹی نے کیا گیا کے لیے

پڑھیں:

سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔ 

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بذات خود نشہ کرنے والا شخص کسی بھی جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والے کو مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا کوئی حق حاصل ہے۔جیونیوز کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم ’سنی مسیح‘ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقراررکھنے کا حکم دے دیا۔

حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان

جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ تحریر کیا ، جبکہ اس اہم کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔دورانِ سماعت مجرم کے وکیل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ واردات کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، لہٰذا اس بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔

عدالت نے اس استدعا کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔ عدالت نے رولنگ دی کہ رضاکارانہ نشے کو کسی بھی مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قانون کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ جرم سے استثنیٰ صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف (زبردستی) یا پھر اس کی لاعلمی میں کوئی نشہ آور چیز دی گئی ہو اور وہ اپنے حواس میں نہ ہو۔

پاکستانی نوجوان مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کے عشق میں لائن آف کنٹرول کے پار پہنچ گیا

تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم نے انتہائی بے دردی سے ایک کمسن اور معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا۔ یہ جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے جو کسی بھی رعایت کا متقاضی نہیں، لہٰذا مجرم کی اپیل خارج کی جاتی ہے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • سیمنٹ پیداوار رائلٹی کیس، پنجاب حکومت کے فیصلے پر وفاقی آئینی عدالت کا سخت اظہارِ تشویش
  • آزاد کشمیر مہاجرین نشستوں کے معاملے پر وفاقی حکومت نرم
  • لاپتا امریکی سائنسدان خاتون کی باقیات جنگل سے برآمد، پراسرار گمشدگیاں معمہ بن گئیں
  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا