Jang News:
2026-07-24@10:59:38 GMT

یہ جو چاہے کر لیں، ہماری حکومت ختم نہیں ہو گی: بیرسٹر سیف

اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT

یہ جو چاہے کر لیں، ہماری حکومت ختم نہیں ہو گی: بیرسٹر سیف

بیرسٹر محمد علی سیف—فائل فوٹو

خیبر پختون خوا کے مشیرِ اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاق اور صوبہ ایک پیج پر نہیں۔ 

سوات سے جاری کیے گئے اپنے بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ وفاق دہشت گردی کے خلاف مالی اور ٹیکنیکل سپورٹ نہیں دے رہا، دہشت گرد صوبائی حکومت نہیں ریاست کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ 

بیرسٹر سیف نے کہا کہ ہمارے کارکنوں کو بلا وجہ گرفتار کیا گیا اور سزائیں دی گئیں، دہشت گردی ایک سیاسی اور انتظامی مسئلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا خاتمہ مذاکرات سے ہی ممکن ہے، پی ٹی آئی کو دیوار سے لگانے سے ترامیم ہی ترامیم ہوں گی۔

بیرسٹر سیف نے کہا کہ مخصوص نشستیں دیگر پارٹیوں کو دینا عوام کے حق پر ڈاکا ہے، میں اسٹبلشمنٹ کا نہیں پی ٹی آئی کا بندہ ہوں، ہم ہر محاذ پر ان مخصوص نشستوں کی مخالفت کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ جو چاہے کر لیں، ہماری حکومت ختم نہیں ہو گی، صوبائی حکومت کے خلاف مولانا فضل الرحمٰن کا بیان مضحکہ خیز ہے۔

بیرسٹر سیف نے یہ بھی کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن اپنی پارٹی میں تبدیلی لے کر آئیں،  سانحہ سوات کی پیش کردہ رپورٹ پر بھرپور کارروائی ہو گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: بیرسٹر سیف کے خلاف کہا کہ سیف نے نے کہا

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے، اسحاق ڈار
  • افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے: اسحاق ڈار
  • وزیر داخلہ محسن نقوی کا مستونگ میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار