بڑے بھائی نے جنازے میں شرکت کیوں نہیں کی؟ حمیرا کی بڑی بھابھی کے نئے اہم انکشافات
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
کراچی(شوبز ڈیسک)معروف اداکارہ اور ماڈل حمیرا اصغر کے انتقال کے بعد ان کی نجی زندگی سے متعلق اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ اداکارہ کی بڑی بھابھی نے دعویٰ کیا ہے کہ حمیرا اصغر کا اپنی فیملی سے طویل عرصے سے تعلق منقطع تھا، اور اس کی بنیادی وجہ ان کا شوبز انڈسٹری میں کام کرنا تھا۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حمیرا کی بھابھی نے بتایا کہ مرحومہ کے خاندان کو ان کے کیریئر سے سخت اختلاف تھا اور یہ اختلاف ان کے قریبی رشتہ داروں، خصوصاً بڑے بھائی، کے ساتھ تعلقات میں دراڑ کی صورت اختیار کر گیا تھا۔
حمیرا کی بھابھی نے بتایا کہ ’خاندان کبھی نہیں چاہتا تھا کہ حمیرا انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں کام کرے۔ لیکن اس کے باوجود وہ میرے ساتھ رابطے میں رہتی تھیں۔ ہماری آخری بات اگست 2024 میں ہوئی تھی، اس کے بعد ان کا نمبر مسلسل بند آ رہا تھا‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ آخری بار بات چیت کے دوران حمیرا جذباتی طور پر کچھ الگ تھلگ محسوس ہو رہی تھیں، لیکن انہوں نے کسی خاص پریشانی کا ذکر نہیں کیا۔
بھابھی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اداکارہ کے بڑے بھائی جو ان کے شوبز کیریئر کے سخت مخالف تھے، انہوں نے حمیرا کے جنازے میں شرکت تک نہیں کی۔
خاندان کی طرف سے بھی عمومی طور پر خاموشی اختیار کی گئی ہے اور صرف چند قریبی رشتہ دار ہی اس معاملے پر لب کشائی کر رہے ہیں۔
حمیرا اصغر کی پر اسرار موت، پولیس کی تحقیقاتی ٹیم تشکیل
خیال رہے کہ کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس میں معروف اداکارہ حمیرا اصغر کی فلیٹ سے لاش ملنے کے واقعے نے سنسنی پھیلا رکھی ہے، جبکہ پولیس نے معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی ہے۔
حمیرا اصغر کی لاش ان کے فلیٹ سے ملی تھی، جس کے بعد کلفٹن ڈویژن پولیس نے فوری کارروائی کا آغاز کیا۔ ایس ایس پی ساؤتھ کی ہدایت پر ایس پی کلفٹن کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کی گئی ہے۔
تحقیقاتی ٹیم میں ایس ڈی پی او ڈیفنس، اے ایس پی اور گزری تھانے کے ایس ایچ او کو شامل کیا گیا ہے، جب کہ سب انسپکٹر اور آئی ٹی برانچ سے تعلق رکھنے والے پولیس کانسٹیبل محمد عدیل بھی ٹیم کا حصہ ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق تحقیقاتی ٹیم روزانہ کی بنیاد پر تفتیشی پیشرفت سے اعلیٰ افسران کو آگاہ کرے گی۔ ٹیم اس بات کا تعین کرے گی کہ اداکارہ کی موت طبعی تھی، حادثہ تھا، خودکشی یا پھر یہ قتل کا واقعہ ہے۔
اداکارہ کی موت کے محرکات اور حالات جاننے کے لیے شواہد جمع کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق فرانزک ٹیم کو بھی شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی قسم کی کوتاہی نہ ہو اور سچ سامنے آ سکے۔
مزیدپڑھیں:”اس بار کارکنوں کو چھوڑ کر تو نہیں بھاگیں گے؟“ صحافی کے سوال پر علی امین گنڈا پور برہم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: بھابھی نے
پڑھیں:
گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔