بغاوت سمیت مختلف مقدمات کا سامنا کرنے والے برازیل کے سابق صدر جائر بولسونارو کی نگرانی کے لیے پولیس نے ان کے پاؤں میں الیکٹرانک بیڑی ڈال دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برازیل کی سپریم کورٹ کے متنازع جج دی مورائش کے حکم پر سابق صدر بولسونارو کو الیکٹرانک اینکل ٹیگ لگا دیا گیا۔

عدالت نے سابق صدر بولسونارو پر انٹرویو دینے اور سوشل میڈیا پر آنے پر بھی پابندی لگا دی۔ ان کو نقل و حرکت مختصر رکھنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

بولسونارو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عدالتی احکامات کو "سپریم ذلت" قرار دیا اور کہا کہ مجھے "گھٹن زدہ ماحول" میں رکھا جا رہا ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کا ملک چھوڑنے یا کسی سفارتخانے میں پناہ لینے کا کبھی کوئی ارادہ نہیں تھا۔

سابق برازیلی صدر کے وکلا نے عدالتی اقدامات پر حیرت اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے انہیں سیاسی نوعیت کا قرار دیا۔

یاد رہے کہ پولیس نے جمعے کے روز بغاوت کے مقدمے میں سابق صدر جائر بولسونارو کے گھر اور سیاسی ہیڈ کوارٹر پر چھاپا بھی مارا تھا۔

JUST IN — While visiting the Brazilian Congress, Bolsonaro revealed his ankle monitor ordered by Justice de Moraes.



“I did not steal, did not murder anyone, did not trafficked. This is a symbol of the humiliation i am being submitted. I am innocent.”pic.twitter.com/BzZjgZFGSf

— Direto da América (@DiretoDaAmerica) July 21, 2025

عدالتی حکم میں کہا گیا تھا کہ سابق صدر پر عائد یہ پابندیاں اُن کے ملک کے خلاف مبینہ "معاندانہ اقدامات" کی وجہ سے ضروری ہیں جن میں مددگار ان کے بیٹے ایڈورڈو بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب بولسونارو کے امریکا میں مقیم بیٹے ایڈورڈو بولسونارو نے والد کے حق میں لابنگ شروع کردی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بولسونارو کی حمایت میں برازیل پر پچاس فیصد درآمدی ٹیکس لگا دیا، جس پر موجودہ صدر لولا دا سلوا نے سخت ردعمل دیا اور اسے ناقابل قبول دباؤ قرار دیا۔

ادھر امریکی وزیر خارجہ نے اعلان کیا کہ جج دی مورائش کا ویزا منسوخ کر دیا گیا ہے اور ان پر سیاسی انتقام کا الزام عائد کیا۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے دیگر ججوں اور ان کے خاندان کے افراد پر بھی ویزا پابندیاں لگانے کا عندیہ دیا ہے۔

یاد رہے کہ بولسونارو پر 2022 کے انتخابات میں صدر لولا کی جیت کو کالعدم کروانے کی مبینہ کوشش پر بغاوت کی سازش کا الزام ہے۔

حکام کے مطابق سابق صدر بولسورنا یہ سازش اس لیے ناکام ہوئی کیونکہ فوج نے ساتھ نہیں دیا تھا۔

یاد رہے کہ 2023 میں بولسونارو کے حامیوں نے حکومتی عمارتوں پر دھاوا بولا تھا حالانکہ بولسورنا اُس وقت ملک سے باہر تھے۔

جس پر بولسونارو اور ان کے ساتھیوں پر مسلح تنظیم بنانے اور جمہوری نظام کے خلاف پرتشدد سازش کی فرد جرم بھی عائد کی جا چکی ہے۔

ان الزامات پر سابق برازیلی صدر بولسورنا کو 40 سال تک قید کی سزا بھی ہوسکتی ہے۔

خیال رہے کہ بولسونارو نے 2026 کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کی خواہش ظاہر کی تھی لیکن انھیں الیکشن کمیشن پہلے ہی نااہل قرار دے چکا ہے۔

دوسری جانب برازیل کے صدر لولا نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ اگلی مدت کے لیے دوبارہ امیدوار ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ملک کو دوبارہ انہی لوگوں کے حوالے نہیں کریں گے جنہوں نے اسے تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا۔

واضح رہے کہ جج دی مورائش نے ماضی میں ایلون مسک کی کمپنی ایکس کو بھی برازیل میں 40 دن کے لیے معطل کر دیا تھا، کیونکہ وہ بولسونارو کے حامیوں کی جانب سے پھیلائی گئی جھوٹی معلومات کو روکنے میں ناکام رہی تھی۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بولسونارو کے رہے کہ

پڑھیں:

سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد:

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔

جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟

ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔

عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

متعلقہ مضامین

  • دنیا کی مہنگی ترین طلاق، جنوبی کوریا کی اہم ترین کاروباری شخصیت کو 944 ارب وون سابق اہلیہ کو ادا کرنے کا حکم
  • دُنیا کی مہنگی ترین طلاق، جنوبی کوریا کی اہم ترین کاروباری شخصیت کو 944 ارب وون سابق اہلیہ کو ادا کرنے کا حکم
  • راولپنڈی: ہولی فیملی اسپتال میں مبینہ غفلت، نومولود بچی کا انگوٹھا کٹ گیا، مقدمہ درج
  • ایران جنگ، امریکی اسلحہ ذخائر کی بحالی میں 5 سال لگ سکتے ہیں، سابق پینٹاگون عہدیدار
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ