اسلام آباد:

اپوزیشن اتحاد نے دو روزہ آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان کردیا، اے پی سی 31 جولائی اور یکم اگست کو اسلام آباد میں ہوگی.

یہ بات اپوزیشن اتحاد کے رہنماؤں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ پریس کانفرنس میں  پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی، سلمان اکرم راجا، بابر اعوان، بیرسٹر سیف، علامہ راجا ناصر عباس، مصطفیٰ نواز کھوکھر اور دیگر موجود تھے۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ یہ سیاسی پارٹیوں کا پہلا اتحاد ہے جو کسی ادارے کی خواہش پر نہیں بنا، یہ اتحاد کھیل تماشے کے لیے نہیں بنایا، جب تک ایک غیر جانب دار الیکشن کمیشن، آئین کی بالادستی اور پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ نہین بنتا اتحاد رہے گا، جس پارٹی نے عام انتخاب جیتا اس کے سربراہ کو جیل میں ڈالا گیا، عوام کو دہشت زدہ کرکے جو حکومت بنائی گئی ہے یہ حکومت کی توہین ہے، نو مئی کے فیصلوں میں بڑوں اور بچوں پر دس دس سال قید کی سزا سنا دی گئی۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہم اس حکومت کے خلاف گلی گلی اور کوچہ کوچہ پھریں گے، ہم گلگت بلتستان سے لے کر گوادر تک احتجاج کریں گے مگر نہ گالی دیں گے نہ پتھر اٹھائیں گے، ہم ایک آل پارٹیز کانفرنس بلائیں گے جس میں اداروں کے لوگوں کو بھی بلایا جائے گا، ہم اس ملک کی خاطر باہر نکلیں گے، ملک میں جس بھی طبقہ فکر کا جو مسئلہ ہے ہم اس کی غیر مشروط حمایت کریں گے، ان مسائل کے لیے اسلام آباد میں 31 جولائی کو آل پارٹیز کانفرنس بلائی جارہی ہے۔

علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ اگر پاکستان میں جمہوریت نام کی کوئی چیز ہوتی تو مخصوص نشستوں والا فیصلہ نہ آتا، کسی دوسری پارٹی نے مخصوص نشستوں کی مذمت نہیں کی الٹا کہا ہاں ہمیں دے دو، کسی دوسری پارٹی کی مخصوص نشستیں لینا ایسا ہے جیسے مردار کھانا، پاکستان میں جمہوریت اور عوام کے ساتھ گھناؤنا کھیل کھیلا جا رہا ہے 
بلوچستان میں اتنے آپریشن ہوئے مگر کوئی کامیابی نہیں ملی حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں، ہمیشہ گولی والی ہارتے ہیں عوام جیت جاتے ہیں اب بھی یہی ہوگا، ہمارے ہاتھ میں اسلحہ نہیں ہے مگر آواز اٹھانا ہم بند نہیں کریں گے، یہ جدوجہد ایک بہترین اسٹریٹجی کے ساتھ چلے گی، پانچ اگست کو تحریک تحفظ آئین کے لوگ بھر پور احتجاج کریں گے، اگر حکومت نے ہمیں روکا تو اس کہ ذمہ دار حکومت ہوگی۔

تحریک انصاف کے رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اس ملک کو درست سمت میں لے کر جانا ہے یہ ملک ڈنڈے کے زور پر نہیں چلایا جا سکتا، بانی پی ٹی آئی کی ہدایت ہے یہ تحریک صرف پی ٹی آئی کی نہیں ہم آج ہر مظلوم کو آواز دے رہے ہیں، ہماری تحریک تحفظ آئین پاکستان آئینی ہے نظریاتی ہے ہمارا مقصد توڑ پھوڑ نہیں، کوئی اس تحریک کو ہم پر ظلم کے ضابطے نافذ کرنے کیلئے استعمال نہ کرے ہمارے لوگوں کو صرف اس لئے سزا دی گئی کہ وہ پی ٹی آئی سے تعلق رکھتے تھے۔

انہوں ںے کہا کہ آج سڑک پر چلنا اکٹھا ہونا آواز بلند کرنا جرم بنا دیا گیا ہے، ان حقوق کو اقوام متحدہ مانتا ہے، آئین مانتا ہے ہمارا دین مانتا ہے، آج 5 گھنٹے جیل کے بعد کھڑے ہو کر آیا ہوں مجھے بانی پی ٹی آئی سے ملنے نہیں دیا گیا، بانی پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل وکلاء اور خاندان کے بغیر چلایا جا رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: آل پارٹیز کانفرنس نے کہا کہ پی ٹی آئی کریں گے

پڑھیں:

حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔

یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔

عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔

حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ

متعلقہ مضامین

  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن