مستونگ میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، فتنہ الہندوستان کے 3 دہشت گرد ہلاک، میجر سمیت 2 جوان شہید
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں سکیورٹی فورسز نے بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کیخلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان کے 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا جب کہ شدید فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے میجر سمیت 2 جوان بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے بھارتی پراکسی، فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر ضلع مستونگ میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا۔
آپریشن کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں نے دہشت گردوں کے ٹھکانے پر مؤثر کارروائی کی تاہم آپریشن کے نتیجے میں 3 دہشت گرد مارے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں سے شدید فائرنگ کے تبادلے میں خوشاب کے 31 سالہ بہادر افسر میجر زیاد سلیم اور جہلم کے بہادر فرزند سپاہی ناظم حسین بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ علاقے میں پائے جانے والے کسی بھی ممکنہ بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد کو ختم کرنے کے لئے سینیٹائزیشن آپریشن بھی کیا گیا
سکیورٹی فورسز ملک سے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لئے پرعزم ہیں اور بہادر جوانوں کی یہ قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔