غزہ کی سنگین صورتحال پر برطانوی وزیرِاعظم کا ہنگامی ردعمل، فرانس اور جرمنی سے مشاورت کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
لندن: برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے غزہ میں جاری انسانی بحران اور خوراک کی شدید قلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر فرانس اور جرمنی کے ساتھ ہنگامی مشاورت کریں گے۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں برطانوی وزیرِاعظم نے غزہ کی صورتحال کو ناقابلِ بیان اور ناقابلِ دفاع انسانی المیہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں بحران کچھ عرصے سے جاری تھا، لیکن اب یہ نئی شدت اختیار کر چکا ہے اور روز بروز بگڑتا جا رہا ہے۔
کیئر اسٹارمر نے کہا کہ وہ جمعہ (آج) کو فرانس اور جرمنی سے رابطہ کریں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ مزید خونریزی کو کیسے روکا جائے اور فلسطینی عوام تک خوراک کیسے پہنچائی جائے۔
وزیراعظم نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ میں انسانی امداد کی فوری اور بلا رکاوٹ رسائی کو یقینی بنائے۔
یاد رہے کہ غزہ میں قحط کی صورتحال انتہائی خطرناک ہو چکی ہے۔ اسرائیلی فوج کی مکمل ناکہ بندی کے باعث امدادی ٹرک مصر کی سرحد پر کھڑے ہیں اور داخل نہیں ہو پا رہے۔ اس صورت حال میں فلسطینی عوام ایک وقت کی روٹی کو بھی ترس رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق غذائی قلت کی وجہ سے کم از کم 115 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جب کہ اسرائیلی جارحیت کو 21 ماہ ہو چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
کراچی:صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔
صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔
ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو اسٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔