بھارت میں بی جے پی کی کٹھ پتلی مودی حکومت میں مسلمان بنگالی مہاجرین کی مذہبی بنیاد پر بے دخلی کا سلسلہ جاری ہے۔

نریندر مودی کے اقتدار میں بھارت اقلیتوں کے لیے مذہبی تعصب اور نسلی امتیاز کا گڑھ بن  چکا ہے، جہاں مودی سرکار بنگالی بولنے والے مسلمان مہاجرین کو مذہبی   تعصب کی بنیاد پر  بے دخل کرنے میں مصروف  ہے۔ بھارت میں شناختی دستاویزات اور بھارتی پاسپورٹ ہونے کے باوجود بنگالی مسلمانوں کو  غیر ملکی قرار دے کر حراست میں  لینے کا حکم دیا گیا ہے۔

بھارتی اخبار  دی وائر کے مطابق ہریانہ میں 74 بنگالی بولنے والے مسلمان مہاجر مزدور وں کو غیر قانونی تارکین کے الزام میں حراست میں  لے لیا گیا ہے۔ وزارت داخلہ  کے حکم پر درجنوں مسلمانوں کو  پولیس نے بغیر واضح قانونی بنیاد کے حراست میں لیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گرفتار  افراد میں میں 11 کا تعلق مغربی بنگال سے اور 63 آسام سے  تعلق رکھتے تھے۔ ہریانہ کے ایک  مرکز میں 200 سے زائد افراد غیر انسانی حالات میں قید ہیں  جب کہ وزارت داخلہ کی جانب سے ریاستوں کو اضلاع کی سطح پر حراستی مراکز قائم کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

دی وائر کے مطابق انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ہولڈنگ سینٹرز دراصل ’’حراستی مراکز‘‘ ہیں۔ ایک متاثرہ خاتون کا کہنا تھا کہ ہمیں صرف اس لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ ہم بنگالی بولتے ہیں۔

رپورٹ میں ایک وکیل کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ وزارت داخلہ کے تحت پولیس کسی کو بھی مشتبہ قرار دے کر 30 دن تک حراست میں رکھ سکتی ہے۔ دی وائر کے مطابق قانونی ماہرین  کا کہنا ہے کہ آئینی طور پر کسی کو بغیر قانونی وجہ کے یا بغیر وکیل تک رسائی دیے قید رکھنا غیر قانونی ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق تمام گرفتار شدگان مغربی بنگال یا آسام کے بنگالی بولنے والے مسلمان ہیں۔

بی جے پی غیر قانونی تارکین وطن کے لیبل کومسلمانوں کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ مودی سرکار مسلمانوں کی ملک گیر گرفتاریاں کر کے این آر سی  جیسے اقدامات کے نفاذ کی تیاری میں ہے ۔ انسانی حقوق کے کارکنان نے بغیر قانونی حکم کے گرفتاریوں کو سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے مطابق گیا ہے

پڑھیں:

طلاق کی افواہیں بے بنیاد؟ شہزادی بیٹریس کی شوہر کے ہمراہ نئی خوشگوار تصویر وائرل

یونان سے سامنے آنے والی نئی تصویر کے بعد قیاس آرائیوں کی شدت میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔

آرٹ کیوریٹر الیکی لیمپروپولوس کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی تصویر میں شہزادی بیٹریس اور ان کے شوہر ایڈوارڈو میپیلی موزی کو یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں دیکھا جا سکتا ہے۔

شہزادی بیٹریس اور ایڈوارڈو میپیلی موزی کی پہلی ملاقات 2018 میں ہوئی تھی۔ دونوں نے ستمبر 2019 میں منگنی کی اور مئی 2020 میں شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔

شادی کے بعد شہزادی بیٹریس، ایڈوارڈو کے پہلے بیٹے کرسٹوفر وولف کی سوتیلی والدہ بھی بنیں۔ بعد ازاں ستمبر 2021 میں ان کے ہاں بیٹی سینا الزبتھ میپیلی موزی کی پیدائش ہوئی، جبکہ جنوری 2025 میں دوسری بیٹی ایتھینا الزبتھ روز میپیلی موزی نے جنم لیا۔

واضح رہے کہ رواں سال کے آغاز میں ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ ایڈوارڈو اپنے سسرالی معاملات کے ممکنہ اثرات کے باعث اپنی کاروباری سرگرمیوں کے حوالے سے پریشان ہیں، جس سے ان کی ازدواجی زندگی سے متعلق قیاس آرائیوں نے جنم لیا۔

بعد ازاں اپریل 2026 میں ایڈوارڈو کے والد الیساندرو میپیلی موزی نے بھی اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس بارے میں ان کے بیٹے سے ہی بات کی جائے۔

اس کے علاوہ رواں سال دونوں کی جانب سے شادی کی سالگرہ پر روایتی سوشل میڈیا پوسٹس نہ کرنے کے باعث بھی ان کی علیحدگی سے متعلق افواہیں زور پکڑ گئی تھیں۔

متعلقہ مضامین

  • انسانی حقوق کا مغربی تصور سیرت طیبہؐ کی روشنی میں
  • طلاق کی افواہیں بے بنیاد؟ شہزادی بیٹریس کی شوہر کے ہمراہ نئی خوشگوار تصویر وائرل
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں مزید بارش کی پیشگوئی
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار