راولپنڈی میں غیرت کے نام پر خاتون کے قتل کا انکشاف، عدالت کی طرف سے قبرکشائی کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
راولپنڈی کے علاقے پیرودھائی میں ایک شادی شدہ لڑکی کو غیرت کے نام پر قتل کیے جانے کا لرزہ خیز انکشاف سامنے آیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ 17 اور 18 جولائی کی درمیانی شب پیش آیا اور قتل جرگے کے کہنے پر کیا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مقتولہ کی عمر 19 برس تھی اور اس کی شادی جنوری میں ہوئی تھی، جسے صرف 7 ماہ گزرے تھے۔ علاقہ مجسٹریٹ قمر عباس نے مقتولہ کی قبر کشائی کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: کوئٹہ: غیرت کے نام پر قتل،جرگہ سسٹم کیسے کام کرتا ہے؟
پولیس تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ لڑکی کو جرگے کے حکم پر قتل کیا گیا، جس میں لڑکی اور اس کے شوہر کے خاندانوں کے افراد شامل تھے۔ پولیس نے واقعے میں ملوث 8 افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جن میں جرگہ ممبران کے علاوہ قبرستان کمیٹی کا سیکریٹری اور گورکن بھی شامل ہیں، خاتون کو قتل کے بعد بغیر جنازہ پڑھے خفیہ طور پر دفن کیا گیا۔
مقتولہ کے شوہر ضیاء الرحمان نے قتل کے 4 دن بعد یعنی 21 جولائی کو تھانے میں ایف آئی آر درج کروائی، جس میں الزام لگایا کہ اس کی بیوی گھر سے بھاگ گئی ہے اور عثمان نامی شخص سے غیر شرعی نکاح کر لیا ہے۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ اصل حقائق پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔
یہ بھی پڑھیے: کوئٹہ میں غیرت کے نام پر دوہرے قتل کا واقعہ
عدالت نے پولیس اور انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ ہفتے کے روز ہونے والی قبر کشائی کے دوران سیکیورٹی کے مکمل انتظامات کیے جائیں۔ مجسٹریٹ نے مقتولہ کے ورثا کو 26 جولائی کے لیے نوٹس بھی جاری کر دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقتل پیرودھائی جرگہ خاتون غیرت قبرستان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اقتل پیرودھائی جرگہ خاتون قبرستان غیرت کے نام پر
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔