نامعلوم افراد نے کمسن بچے کو تیز دھار آلے سے قتل کردیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
پاکپتن میں نامعلوم افراد نے کمسن بچے کو تیز دھار آلے سے قتل کردیا۔
تفصیلات کے مطابق پاکپتن کے نواحی علاقے کلمہ والاچوک کےقریب نامعلوم افراد نےگھرمیں گھس کرچار سالہ بچے کوپراسرار طورپرگلا کاٹ کرقتل کردیا، بچے کی شناخت احمد کے نام سے ہوئی ہے۔
چالیار مدرسہ طالبعلم قتل: ’بچہ گھر والوں کو بتاتا رہا کہ قاری جنسی خواہشات کا تقاضہ کر رہا ہے لیکن کسی نے اعتبار نہیں کیا‘، نانا
پولیس نے بچے کی والدہ کی مدعیت میں نامعلوم افراد کےخلاف مقدمہ درج کرکے ٓتحقیقات شروع کردیں۔
پولیس کے مطابق مقدمے میں بچے کی والدہ نے موقف اپنایا کہ واردات کے وقت ہو گھرسے باہردُکان پر سودا سلف لینے گئی تھی اورجب گھرواپس پہنچی توخون میں لَت پت بچہ گھرکے بند کمرے میں تڑپ رہا تھا، جسے فوری ڈسٹرکٹ اسپتال مُنتقل کیا گیا جہاں حالت تشویشناک ہونےپربچے کوساہیوال ریفر کیا گیااوراسپتال منتقلی دوران بچہ جاں بحق ہوگیا۔
پولیس نے بچے کی والدہ کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا ۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
رات گئے تک جاگنے کی عادت آپ کی دماغی صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
جدید طرزِ زندگی میں نیند کے اوقات میں بے ترتیبی عام ہوتی جا رہی ہے خاص طور پر نوجوانوں میں رات گئے تک جاگنا ایک معمول بنتا جا رہا ہے تاہم ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ یہ عادت دماغی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔
امریکا میں ہونے والی مختلف طبی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جو افراد رات دیر تک جاگتے اور صبح دیر سے اٹھتے ہیں، ان میں ذہنی مسائل جیسے ڈپریشن، انزائٹی اور تنہائی کے احساس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں 400 سے زائد افراد کا جائزہ لیا گیا جس میں ان کی نیند کی عادات اور ذہنی کیفیت کا تجزیہ کیا گیا۔
نتائج کے مطابق رات گئے تک جاگنے والے افراد نہ صرف زیادہ بے چینی کا شکار ہوتے ہیں بلکہ وہ سماجی طور پر بھی کم متحرک ہوتے ہیں جس کے باعث تنہائی کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رات کے اوقات میں منفی خیالات زیادہ حاوی ہوتے ہیں جو ذہنی دباؤ میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔
اسی طرح دیگر تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا کہ دیر سے سونے والے افراد میں ڈپریشن کا خطرہ 20 سے 40 فیصد تک زیادہ ہو سکتا ہے۔ اس کی ایک وجہ ناقص نیند کا معیار، غیر صحت بخش خوراک اور اسمارٹ فون یا اسکرین کا زیادہ استعمال بھی ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق انسانی جسم کا قدرتی نظام (سرکیڈین ردھم) دن میں سرگرمی اور رات میں آرام کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس نظام میں خلل ذہنی اور جسمانی صحت دونوں کو متاثر کرتا ہے۔
تحقیق سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ اگرچہ نیند کا دورانیہ مکمل ہو، لیکن سونے کا غلط وقت بھی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے بہتر دماغی صحت کے لیے جلد سونے اور جلد جاگنے کی عادت اپنانا ضروری ہے۔
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ رات کے وقت اسکرین کا استعمال کم کیا جائے، سونے کا باقاعدہ وقت مقرر کیا جائے اور دن کے اوقات میں سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیا جائے تاکہ ذہنی صحت بہتر رہ سکے۔