سیف علی خان حملہ کیس میں اہم پیشرفت
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
سیف علی خان حملہ کیس میں ممبئی پولیس نے ملزم کی ضمانت کی مخالفت کردی۔
بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق ممبئی پولیس نے بالی ووڈ اداکار سیف علی خان پر حملے کے کیس میں گرفتار بنگلا دیشی شہری شریف الاسلام کی ضمانت کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت کو بتایا ہے کہ ملزم کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں۔
پولیس کے مطابق فارنزک رپورٹ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اداکار کی ریڑھ کی ہڈی کے قریب سے نکالا گیا چاقو کا ٹکڑا، جائے وقوعہ پر ملنے والا ایک اور ٹکڑا، اور ملزم سے برآمد ہتھیار ایک ہی چاقو کے حصے ہیں۔
خیال رہے کہ یہ واقعہ 16 جنوری کو باندرہ کے ایک فلیٹ میں پیش آیا تھا جہاں ملزم مبینہ طور پر ڈکیتی کی نیت سے داخل ہوا اور سیف علی خان پر چاقو سے وار کیے۔ 54 سالہ اداکار کو شدید زخمی حالت میں ممبئی کے لیلاوتی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی ہنگامی بنیادوں پر سرجری کی گئی۔
پولیس نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ملزم غیر قانونی طور پر بھارت میں مقیم ہے اور اگر ضمانت دی گئی تو وہ فرار ہو سکتا ہے۔ ملزم نے اپنے وکیل کے توسط سے دعویٰ کیا ہے کہ وہ بے گناہ ہے، اس کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں، اور تفتیش مکمل ہو چکی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سیف علی خان
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔