بنوں، پولیس کا آپریشن، دہشتگرد تاریکی کا فائدہ اٹھا کر فرار
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
فائل فوٹو
بنوں کے علاقہ میریان میں پولیس کا آپریشن، دہشت گرد تاریکی کا فائدہ اٹھا کر موقع سے فرار ہوگئے۔
آر پی او بنوں سجاد خان کے مطابق آپریشن میں اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا۔
سجاد خان نے بتایا کہ پولیس اسٹیشن میریان پر دہشت گردوں کا کواڈ کاپٹر حملہ ناکام بنایا اور اسے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے فضا میں ہی مار گرایا۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کا ڈرون اپنے ہی ساتھیوں پر گرنے سے متعدد دہشت گردوں کے ہلاک و زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔
آر پی او بنوں سجاد خان کے مطابق بکتربند گاڑیاں، ڈرون، تھرمل ویپن و دیگر ہتھیار آپریشن میں استعمال کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم سیکیورٹی فورسز سے رابطے میں ہیں، ضرورت پڑنے پر مزید آپریشن کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔