ہیپاٹائٹس کے عالمی دن پر وزیراعظم کا ایک کروڑ 65 لاکھ افراد کی سکریننگ کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
اسلام آباد: آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں عالمی یوم ہیپاٹائٹس منایا جا رہا ہے، اس سلسلے میں وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ 2030 تک ایک کروڑ 65 لاکھ افراد کی اسکریننگ ہوگی۔
وزیر اعظم شہباز شریف اور صدر مملکت آصف علی زرداری نے ہیپاٹائٹس کے عالمی دن کے موقع پر پیغام جاری کیے ہیں، وزیر اعظم نے کہا پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر اس مرض کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔
انھوں نے کہا وائرل ہیپاٹائٹس عالمی چیلنج ہے، پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں ہیپاٹائٹس سی کی شرح تشویشناک ہے، ہیپاٹائٹس بی اور سی سے متاثرہ بہت سے افراد تشخیص اور علاج کے بغیر رہ جاتے ہیں، اس لیے حکومت نے اس کے خاتمے کے لیے قومی پروگرام شروع کیا ہے، جس کے تحت 2030 تک ایک کروڑ 65 لاکھ افراد کی اسکریننگ ہوگی، اور مثبت کیسز کا مفت علاج کیا جائے گا۔
صدر آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا ہیپاٹائٹس پاکستان میں صحت عامہ کا سنگین مسئلہ ہے، یہ مرض اکثر ایسی اسٹیج پر ظاہر ہوتا ہے جب جگر کو شدید نقصان پہنچ چکا ہو، اگر بروقت اقدامات کیے جائیں تو یہ قابل علاج مرض ہے۔
انھوں نے کہا غیر مؤثر طبی سہولیات کے باعث بڑی تعداد میں لوگ اس مرض کا شکار ہو رہے ہیں، ہم صحت مند پاکستان کے لیے اپنی اجتماعی ذمہ داری کا اعادہ کرتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نے کہا
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔