جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنا ہو گا، فاروق عبداللہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
نیشنل کانفرنس کے صدر کا کہنا ہے کہ حکومت نے ہم سے پارلیمنٹ میں وعدے کیے جبکہ سپریم کورٹ کے سامنے بھی وعدے کیے گئے کہ ریاست کا درجہ بحال کیا جائے گا لیکن وعدہ تاحال پورا نہیں کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ اگر آئین کا احترام کرنا ہے تو جموں و کشمیر کا ریاست کا درجہ بحال کرنا ہو گا۔ ذرائع کے مطابق فاروق عبداللہ ایک بھارتی خبر رساں ادارے کو انٹرویو میں کہا کہ تقریبا چھ برس قبل 5 اگست 2019ء کو دفعہ 370 منسوخ کرتے وقت کہا گیا تھا کہ عسکریت پسندی ختم ہو گی تو کیا اب عسکریت ختم ہو گئی ہے یا اس میں اضافہ ہوا ہے، دلی کو اس کا جواب پارلیمنٹ میں دینا چاہیے۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کو یونین ٹری ٹیری بنا دیا گیا اور انہوں نے اس سے کیا حاصل کیا۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ حکومت نے ہم سے پارلیمنٹ میں وعدے کیے جبکہ سپریم کورٹ کے سامنے بھی وعدے کیے گئے کہ ریاست کا درجہ بحال کیا جائے گا لیکن وعدہ تاحال پورا نہیں کیا گیا۔ فاروق عبداللہ نے سکیورٹی اور انتظامی معاملات پر جموں و کشمیر کی حکومت کے کنٹرول کے فقدان پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر مقامی حکومت سکیورٹی کی ذمہ دار ہوتی تو پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کو روکا جا سکتا تھا۔ انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی طرف سے پہلگام میں سکیورٹی کی ناکامی کا اعتراف کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا مجھے خوشی ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر نے اپنی ناکامی تسلیم کر لی ہے، انہیں مستعفی ہونے کی ہمت بھی کرنی چاہیے تھی۔ فاروق عبداللہ نے پاکستان کے بارے میں ایک سوال کے جواب کہا کہ پاکستان ہمت ہارنے والا نہیں ہے، جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فاروق عبداللہ نے درجہ بحال وعدے کیے کہا کہ
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔