برلن میں فلسطین کے حق میں مظاہرہ، 57 افراد گرفتار، 17 پولیس اہلکار زخمی
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
جرمن دارالحکومت برلن میں سالانہ پرائیڈ مارچ کے موقع پر فلسطین کے حق میں ہونے والے ایک مظاہرے کے دوران جھڑپوں کے بعد پولیس نے 57 افراد کو گرفتار کر لیا، جب کہ 17 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق تقریباً 10 ہزار افراد نے مظاہرے میں شرکت کی، جسے "انٹرنیشنلِسٹ کوئیر پرائیڈ فار لبریشن" نامی تحریک نے منظم کیا تھا۔ مظاہرے کا مقصد فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی اور صہیونیت کے خلاف آواز بلند کرنا تھا۔
پولیس کے مطابق گرفتاریاں عوامی نظم میں خلل ڈالنے، پولیس پر مزاحمت، بوتلیں پھینکنے، جھگڑوں، اور یہود مخالف نعروں سمیت دہشت گرد تنظیموں کی علامتیں اٹھانے پر کی گئیں۔ پولیس نے سوشل میڈیا پر ان وجوہات کی تصدیق کی۔
اسی روز برلن کے دوسرے علاقے میں باقاعدہ پرائیڈ پریڈ بھی منعقد ہوئی، جہاں بھی پولیس نے مختلف الزامات میں 64 افراد کو گرفتار کیا۔
ادھر دائیں بازو کے شدت پسندوں نے بھی ایک علیحدہ مظاہرہ کیا جس میں 20 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
جرمنی اور یورپ کے دیگر ممالک میں غزہ پر جاری اسرائیلی حملوں کے تناظر میں فلسطین کے حق میں مظاہروں میں تیزی آئی ہے۔ اگرچہ جرمنی طویل عرصے سے اسرائیل کا اتحادی رہا ہے، لیکن حالیہ دنوں میں عام شہریوں کی ہلاکتوں اور انسانی بحران کے باعث جرمن حکومت نے اسرائیل پر کھل کر تنقید شروع کی ہے۔
جرمنی کا کہنا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کو دو ریاستی حل کے آخری اقدامات میں سے ایک سمجھتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔