عمران خان کے بیٹے احتجاج میں شرکت کے لیے پاکستان آ سکتے ہیں، شاہ فرمان
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف کور کمیٹی کے رکن اور سابق گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان نے اعلان کیا ہے کہ 5 اگست کو عمران خان کی رہائی کے لیے ملک بھر میں احتجاج کیا جائے گا، جس میں یونین کونسل سے لے کر بڑے شہروں تک عوامی شرکت متوقع ہے۔
وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے شاہ فرمان نے کہا کہ 5 اگست کو عوام فیصلہ دے گی کہ عمران خان کو رہا کرنا ہے یا نہیں۔ یہ دن عوامی رائے کا دن ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ عوام کی اکثریت، یعنی 95 فیصد لوگ، عمران خان کے ساتھ ہیں اور ان کی رہائی چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق 5 اگست کو پورے پاکستان میں لوگ سڑکوں پر نکلیں گے، تحصیل سطح سے لے کر یونین کونسلز اور شہری مراکز تک احتجاج ہوگا۔
شاہ فرمان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی رہائی کے لیے کوششیں جاری ہیں، تاہم اس بارے میں کوئی حتمی تاریخ نہیں دی جا سکتی۔
انہوں نے کہا کہ قوم چاہتی ہے کہ عمران خان کو رہا کیا جائے، اور ہم ان کی آواز بن کر سڑکوں پر نکلیں گے۔
عمران خان کے بیٹوں کی سرگرمیوں پر بات کرتے ہوئے شاہ فرمان نے بتایا کہ وہ اس وقت امریکا میں موجود ہیں اور اپنے والد کی رہائی کے لیے کوشاں ہیں، اور یہ ان کا حق ہے کہ وہ اپنے والد کے لیے آواز بلند کریں۔
شاہ فرمان نے مزید کہا کہ عمران خان کے بیٹوں کی پاکستان آمد کی اطلاعات بھی ہیں، اور ممکن ہے کہ وہ احتجاج میں شرکت کریں، تاہم اس بارے میں حتمی شیڈول پارٹی کے پاس موجود نہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کہ عمران خان شاہ فرمان نے عمران خان کے کی رہائی کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔