تارک مہتا کا الٹا چشمہ کی مشہور اداکارہ کا پروڈیوسرز پر واجبات ادا نہ کرنے کا الزام
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
معروف بھارتی اداکارہ جینیفر بانسیوال نے ’تارک مہتا کا الٹا چشمہ‘ کے پروڈیوسرز پر واجبات نہ دینے کا الزام عائد کردیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق جینیفر نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں شو کے پروڈیوسرز پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ شو چھوڑنے والے کئی اداکاروں کو ان کے واجب الادا معاوضے تاحال نہیں دیے گئے۔
جینیفر نے بھویا گاندھی، جو تارک مہتا کا اُلٹا چشمہ میں ٹپو کا کردار نبھا رہے تھے، کے شو چھوڑ کر جانے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے جانے کے وقت بھی ادائیگی کا تنازع سامنے آیا تھا، جو غالباً 2017 یا 2018 میں ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ نیہا مہتا، جنہوں نے انجلی میہتا کا کردار ادا کیا تھا ان کو بھی اب تک ان کی مکمل ادائیگی نہیں کی گئی، تاہم اگر حالیہ دنوں میں کچھ دیا گیا ہو تو اس کی اطلاع انہیں نہیں۔
جینیفر بانسیوال جنہوں نے اس مشہور فیملی کامیڈی شو میں سوڈی سنگھ کی اہلیہ کا کردار نبھایا تھا، نے یہ بھی انکشاف کیا کہ حالیہ آن ائیر شو میں کام کرنے والے اکثر فنکار صرف مالی مجبوریوں کے تحت کام کر رہے ہیں اور کئی لوگ ان ہی مالی حالات کے ڈر سے آواز نہیں اٹھا پاتے۔
جینیفر نے یہ بھی بتایا کہ انہیں بھی کچھ لوگوں کی جانب سے خاموش رہنے اور معافی مانگنے کا مشورہ دیا گیا تھا، تاکہ معاملہ ختم ہو جائے مگر انہوں نے اپنے حق کیلئے آواز اُٹھانا ضروری سمجھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔