آئی پی ایل چوری اسکینڈل: وانکھیڑے اسٹیڈیم ممبئی سے لاکھوں روپے مالیت کا سامان غائب
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
بھارت کے معروف وینکھیڑے اسٹیڈیم میں انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی ٹیموں کی جرسیز کی مبینہ چوری نے بی سی سی آئی کی اندرونی سیکیورٹی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
پولیس کے مطابق وینکھیڑے اسٹیڈیم میں بی سی سی آئی کے آفیشل مرچنڈائز اسٹور سے 6 لاکھ 52 ہزار روپے مالیت کی جرسیز چوری ہوئیں، جس کا الزام ایک سیکیورٹی منیجر پر لگایا گیا ہے۔ پولیس اسٹیشن میں واقعے کی ایف آئی آر درج کی گئی ہے، اور تحقیقات جاری ہیں۔
مزید پڑھیں:آئی پی ایل میں نئی تاریخ رقم، کوہلی کی رائل چیلنجرز بنگلورو پہلی مرتبہ چیمپیئن بن گئی
شکایت بی سی سی آئی کے ملازم ہیمانگ بھرت کمار امین (عمر 44 سال) نے 17 جولائی کو درج کرائی، جس میں بتایا گیا کہ معمول کے آڈٹ کے دوران اسٹور میں اسٹاک کی کمی سامنے آئی۔ غائب ہونے والی جرسیز میں ممبئی انڈینز، چنئی سپر کنگز، دہلی کیپیٹلز اور رائل چیلنجرز بنگلورو کی جرسیز شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق، سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزم کو ایک کارڈ بورڈ باکس لے جاتے ہوئے دیکھا گیا ہے، جس کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔ تاحال کسی گرفتاری کی اطلاع نہیں ملی۔
مزید پڑھیں:آئی پی ایل کے دوران پاکستانی حملے کا خطرہ، دھرم شالا اسٹیڈیم میں کیا ہوا؟ مچل اسٹارک کی اہلیہ نے بتادیا
یاد رہے کہ آئی پی ایل دنیا کی مہنگی ترین اور مقبول کرکٹ لیگز میں شمار ہوتی ہے، جس کا 2025 کا سیزن حال ہی میں اختتام پذیر ہوا، جہاں رائل چیلنجرز بنگلورو نے پنجاب کنگز کو 6 رنز سے شکست دے کر پہلی بار ٹائٹل جیتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی پی ایل آئی پی ایل چوری اسکینڈل وانکھیڑے اسٹیڈیم ممبئی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آئی پی ایل آئی پی ایل
پڑھیں:
حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
فائل فوٹوپبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق حیسکو کے ڈی ڈی او، ایکسیئن اور سی ایف او آفس کی ملی بھگت سے خرد برد کی گئی۔
سی ای او حیسکو کے مطابق اس کیس میں چار ملازمین کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ تین اکاؤنٹس افسران، ایک فنانس افسر کو نوکری سے نکالا گیا۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے 5 مقدمات درج کیے گئے، 130 سے زائد افراد ملوث تھے، اب تک صرف 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔