لندن :بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کے والد کی رہائی کے لیے صرف امریکا کی طرف دیکھ رہے ہیں، یہی امید باقی رہ گئی ہے۔ پاکستان میں تمام قانونی راستے اختیار کیے جا چکے ہیں لیکن انصاف کا حصول ممکن نظر نہیں آ رہا۔
امریکی ٹی وی چینل کو انٹرویو میں قاسم نے بتایا کہ عدالتی اجازت کے باوجود قیدی والد سے ہفتوں میں ایک مختصر کال ہی ممکن ہو پاتی ہے، جو ظالمانہ اور غیر انسانی سلوک ہے۔ یہ نظام ہمیں مایوسی کے سوا کچھ نہیں دے رہا، اب ہماری نظریں امریکا پر ہیں۔

قاسم خان نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی امید باندھتے ہوئے کہا کہ وہ واحد عالمی رہنما ہیں جو یہ معاملہ دنیا کے سامنے لا سکتے ہیں۔ ان کے بھائی سلیمان خان نے بھی بین الاقوامی میڈیا کی خاموشی پر تشویش ظاہر کی۔

دونوں بھائی حالیہ دنوں میں ٹرمپ کے سابق مشیر ریچرڈ گرینیل سے ملاقات کر چکے ہیں، جنہوں نے ان کی حمایت کا وعدہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس جنگ میں تنہا نہیں۔

Post Views: 3.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا

نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔  نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا