عمران خان کی مدد کے لیے ہم اسوقت صرف امریکا کی طرف دیکھ رہے ہیں، قاسم خان کا انٹرویو
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
لندن :بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کے والد کی رہائی کے لیے صرف امریکا کی طرف دیکھ رہے ہیں، یہی امید باقی رہ گئی ہے۔ پاکستان میں تمام قانونی راستے اختیار کیے جا چکے ہیں لیکن انصاف کا حصول ممکن نظر نہیں آ رہا۔
امریکی ٹی وی چینل کو انٹرویو میں قاسم نے بتایا کہ عدالتی اجازت کے باوجود قیدی والد سے ہفتوں میں ایک مختصر کال ہی ممکن ہو پاتی ہے، جو ظالمانہ اور غیر انسانی سلوک ہے۔ یہ نظام ہمیں مایوسی کے سوا کچھ نہیں دے رہا، اب ہماری نظریں امریکا پر ہیں۔
قاسم خان نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی امید باندھتے ہوئے کہا کہ وہ واحد عالمی رہنما ہیں جو یہ معاملہ دنیا کے سامنے لا سکتے ہیں۔ ان کے بھائی سلیمان خان نے بھی بین الاقوامی میڈیا کی خاموشی پر تشویش ظاہر کی۔
دونوں بھائی حالیہ دنوں میں ٹرمپ کے سابق مشیر ریچرڈ گرینیل سے ملاقات کر چکے ہیں، جنہوں نے ان کی حمایت کا وعدہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس جنگ میں تنہا نہیں۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔