UrduPoint:
2026-07-23@23:55:54 GMT

میانمار: زلزلہ متاثرین کے لیے چین کی امداد کا خیر مقدم

اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT

میانمار: زلزلہ متاثرین کے لیے چین کی امداد کا خیر مقدم

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 30 جولائی 2025ء) عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے چین کی جانب سے میانمار میں زلزلے سے متاثرہ 320,000 لوگوں کو ہنگامی غذائی مدد فراہم کرنے کے اقدام کو سراہا ہے۔

اس اقدام کے تحت چین 'ڈبلیو ایف پی' کو امدادی مالی وسائل مہیا کرے گا جس سے 4,900 میٹرک ٹن چاول خریدے جائیں گے۔ اس امداد سےمارچ میں آنے والے 7.

7 شدت کے زلزلے سے بری طرح متاثرہ علاقے ساگینگ، منڈلے، نے پی تا، میگوے، شن اور باگو میں ایک ماہ کے لیے لوگوں کی غذائی ضروریات پوری کی جائیں گی۔

'ڈبلیو ایف پی' یہ امداد ضرورت مند لوگوں کو براہ راست مہیا کرے گا جس میں اسے مقامی امدادی شراکت داروں اور غیرسرکاری اداروں کا تعاون بھی میسر ہو گا۔

غذائی عدم تحفظ

میانمار میں زلزلے سے بری طرح متاثرہ علاقوں میں غذائی تحفظ کی صورتحال بدستور نازک ہے۔

(جاری ہے)

اقوام متحدہ کی جاری کردہ تازہ ترین معلومات کے مطابق 63 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو انسانی امداد اور تحفظ کی فوری ضرورت ہے۔

زلزلے سے کئی ماہ کے بعد بھی ہزاروں لوگ بے گھر ہیں جو پناہ گاہوں میں مون سون سمیت شدید موسمی حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔

'ڈبلیو ایف پی' اور اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) کے مطابق، متاثرہ علاقوں میں 38 فیصد آبادی غذائی ضروریات کے لیے انسانی امداد یا غیررسمی مدد پر انحصار کر رہی ہے۔

© WFP/Diego Fernandez بین الاقوامی مدد کی ضرورت

میانمار میں 'ڈبلیو ایف پی' کے نمائندے مائیکل ڈنفورڈ نے کہا ہے کہ ملک کو کئی سال سے تنازعات، بے گھری اور بڑھتے غذائی عدم تحفظ جیسے سنگین مسائل کا سامنا تھا جنہیں زلزلے نے دوچند کر دیا ہے۔

چین نے اس زلزلے کے بعد میانمار کے لوگوں کو ضروری مدد پہنچانے کے لیے نمایاں اقدامات کیے ہیں۔

چین کی جانب سے فراہم کردہ حالیہ مدد سے 'ڈبلیو ایف پی' کو ایسے خاندانوں تک خوراک پہنچانے کی مدد ملے گی جو زلزلے میں اپنا سب کچھ کھو چکے ہیں اور مون سون کی بارشوں نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ 'ڈبلیو ایف پی' زلزلہ متاثرین کی مدد کے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے اور ملک بھر میں اس آفت سے متاثرہ علاقوں اور ہمسایہ ممالک میں لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے متواتر بین الاقوامی مدد درکار ہے۔ لوگوں کو بھوک سے بچانے اور زندگیوں کی بحالی میں مدد دینے کے لیے مزید ممالک بھی چین جیسا کردار ادا کریں۔

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ڈبلیو ایف پی زلزلے سے لوگوں کو کے لیے

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال