واشنگٹن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔30 جولائی ۔2025 )امریکی ریاست ہوائی میں سونامی میں وارننگ کے بعد بڑے پیمانے پر لوگوں کے انخلا کا سلسلہ جاری ہے اور ہوائی کے جزیرے اوواہو میں چار فٹ اونچی لہریں ریکارڈ کی گئی ہیں ہوائی کی ہنگامی سروسز نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ حکام کی جانب سے اگلی اطلاع تک وہ انخلا زون سے دور رہیں.

(جاری ہے)

امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق حکام کا کہنا ہے سونامی کی لہریں اب بھی ریاست کو متاثر کر رہی ہیں اور سونامی وارننگ اب بھی نافذ ہے لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں اس وقت تک دوبارہ داخل نہ ہوں جب تک کہ حکام اس کی باقاعدہ اجازت نہ دے دیں ہوائی کی پوری ساحلی پٹی کو انخلا زون میں شامل کیا گیا ہے ادھر پیسیفک سونامی وارننگ سینٹر کا کہنا ہے کہ سونامی کی لہریں ہوائی سے ٹکرانا شروع ہو گئی ہیں.

سینٹر کی جانب سے جاری پیغام میں کہا گیا ہے کہ لوگوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے فوری کارروائی کرنے کی ضرورت ہے سونامی وارننگ سینٹر میں کہا گیا ہے کہ یہ خطرہ اگلے کئی گھنٹوں تک برقرار رہ سکتا ہے ہوائی کے گورنر جوش گرین کا کہنا ہے کہ اب تک کوئی ایسی لہر نہیں آئی ہے جو خطرے کا باعث ہو انہوں نے بتایا کہ پانی کی سطح میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے جوش گرین نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ صورتحال کو معمول پر آنے میں کم از کم دو سے تین گھنٹے مزید لگیں گے.

امریکی کوسٹ گارڈ نے ہوائی کی بندرگاہوں سے تجارتی جہازوں کو نکالنے کا حکم جاری کیا ہے جبکہ تمام بندرگاہیں آنے والی ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہیں کوسٹ گارڈ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہوائی کے قریب موجود بحری جہاز اس وقت تک ساحل کے قریب نہ آئیں جب تک کہ سونامی کی لہریں گزر نہ جائیں فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹس کے مطابق ہوائی جانے والی کئی پروازوں کا رخ بھی موڑ دیا گیا ہے ان میں سے کئی جہازوں کو واپس جانے کی ہدایت کی گئی ہے ہوائی کے گورنر نے بتایا کہ جاپان اور ہوائی کے درمیان واقع مڈ وے اٹول جزیرے سے 6 فٹ اونچی لہر گزری ہے ان کا کہنا تھا کہ وہ اب بھی ایک بہت اونچی لہر کی توقع کر رہے ہیں واضح رہے کہ روس کے ساحلی علاقے کے نزدیک آنے والے 8.8 شدت کے زلزلے کے بعد امریکا سمیت متعدد ممالک میں سونامی کی وارننگ جاری کی گئی ہیں. 

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کہا گیا ہے کہ سونامی کی ہوائی کے گئی ہیں کا کہنا

پڑھیں:

ایران کا قشم جزیرہ امریکی فوج کے نشانے پر کیوں ہے؟

خلیج فارس میں واقع ایران کا قشم جزیرہ، جو کبھی آزاد تجارتی زون اور سیاحتی مرکز کے طور پر جانا جاتا تھا، اب خطے میں ایران کی اہم ترین عسکری تنصیبات میں شمار ہوتا ہے۔ آبنائے ہرمز کے دہانے پر واقع یہ جزیرہ اپنی جغرافیائی اہمیت، زیرِ زمین فوجی نیٹ ورکس اور میزائل تنصیبات کے باعث امریکی فوج کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق قشم جزیرہ نہ صرف ایران کی دفاعی حکمتِ عملی کا کلیدی حصہ ہے بلکہ عالمی توانائی کی ترسیل پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

تقریباً 1,445 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا قشم خلیج فارس کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہ، آبنائے ہرمز، کے داخلی راستے پر واقع ہے۔ یہی محلِ وقوع اسے ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں غیر معمولی اہمیت دیتا ہے۔

جزیرے کی منفرد جغرافیائی ساخت اور مضبوط دفاعی انفراسٹرکچر اسے امریکی فوج کے لیے ایک اہم ہدف بناتے ہیں۔

زیرِ زمین عسکری نیٹ ورک

قشم جزیرے کو ایران کے لیے ایک ایسے ’ناقابلِ غرق طیارہ بردار بحری جہاز‘ کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو مستقل طور پر خلیجی پانیوں میں موجود ہے۔ جزیرے کے نیچے پھیلے ہوئے سرنگی نظام اور پیچیدہ نمکانی غاروں میں ساحلی دفاعی میزائل تنصیبات اور تیز رفتار جنگی کشتیوں کے اڈے قائم کیے گئے ہیں۔

ان خفیہ تنصیبات کے باعث ایران اپنی عسکری صلاحیتوں کو فضائی یا بحری حملوں سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔

زیرِ زمین ’میزائل سٹیز

ایران نے قشم جزیرے کے اندر ساحلی جنگی حکمتِ عملی کے لیے خصوصی میزائل تنصیبات قائم کر رکھی ہیں، جنہیں عموماً ’میزائل سٹیز‘ کہا جاتا ہے۔

ان کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بین الاقوامی بحری آمدورفت پر نظر رکھنا اور ضرورت پڑنے پر اسے محدود یا معطل کرنے کی صلاحیت برقرار رکھنا ہے۔

عالمی توانائی کی گزرگاہ پر اثر و رسوخ

آبنائے ہرمز دنیا میں تیل اور گیس کی ترسیل کا ایک اہم ترین راستہ سمجھی جاتی ہے۔ ماضی میں ایران قشم جزیرے کو استعمال کرتے ہوئے اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے بعض تیل بردار اور گیس بردار جہازوں کی نقل و حرکت محدود یا متاثر کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کر چکا ہے۔

اسی وجہ سے امریکی فوج قشم کو جاری توانائی اور بحری سلامتی کی کشمکش کا مرکزی اعصابی مرکز تصور کرتی ہے۔ واشنگٹن کے نزدیک اگر ایران اس جزیرے کے ذریعے آبنائے ہرمز میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے تو اس کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

ایران امریکا کشیدگی کا اگلا محاذ

قشم جزیرہ حالیہ برسوں میں ایران اور امریکا کے درمیان فوجی کشیدگی کا ایک اہم مرکز بھی بن گیا ہے۔

ماضی میں جب ایران نے خطے میں امریکی تنصیبات یا مفادات کو نشانہ بنایا تو امریکی فوج نے جواباً قشم جزیرے پر موجود پاسدارانِ انقلاب کی پوزیشنوں اور مواصلاتی ڈھانچے پر محدود نوعیت کے حملے کیے۔

امریکی مؤقف کے مطابق ایسی کارروائیوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو کمزور کرنا ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو متاثر یا معطل کر سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ قشم جزیرہ اپنی جغرافیائی اہمیت، عسکری تنصیبات اور آبنائے ہرمز پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت کے باعث مستقبل میں بھی ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کا ایک اہم مرکز بنا رہ سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایران کا قشم جزیرہ

متعلقہ مضامین

  • کراچی: بھینس کالونی میں شادی کی تقریب میں ہوائی فائرنگ، دلہا گرفتار
  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • ایران کا قشم جزیرہ امریکی فوج کے نشانے پر کیوں ہے؟
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد