محسن نقوی کی بنگلہ دیش اہم ملاقات، ویزا فری انٹری سمیت سیکیورٹی تعاون پر اہم پیشرفت
اشاعت کی تاریخ: 23rd, July 2025 GMT
ڈھاکہ میں وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے بنگلہ دیش کے وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) جہانگیر عالم چودھری سے ملاقات کی۔
بنگلہ دیشی وزیر داخلہ نے وزارت داخلہ آمد پر پرتپاک خیرمقدم کیا اور محسن نقوی کو گارڈ آف آنرز پیش کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:محسن نقوی نے بھارتی اعتراض رد کرتے ہوئے ایشین کرکٹ کونسل کا اجلاس بنگلہ دیش میں طلب کرلیا
ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں وزرائے داخلہ نے سفارتی و سرکاری پاسپورٹس پر ویزا فری انٹری کی سہولت دینے پر اصولی اتفاق کیا، جبکہ انٹرنل سکیورٹی، پولیس ٹریننگ، انسداد منشیات اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف تعاون بڑھانے پر بھی بات چیت ہوئی۔
انسداد دہشت گردی کے لیے مشترکہ اقدامات اور پولیس اکیڈمیز میں ٹریننگ پروگرامز کے تبادلوں پر گفتگو کی گئی۔
بنگلہ دیشی وزیر داخلہ نے پاکستانی ہم منصب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کے دورے کو دوطرفہ تعلقات کے فروغ کیلئے اہم قرار دیا۔
دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے فروغ کے لیے مشترکہ کمیٹی قائم کر دی گئی، جس کی سربراہی پاکستان کی جانب سے وفاقی سیکرٹری داخلہ خرم آغا کریں گے۔
بنگلہ دیش کا اعلیٰ سطحی وفد عنقریب سیف سٹی پراجیکٹ اور نیشنل پولیس اکیڈمی کا دورہ کرنے اسلام آباد آئے گا۔
ملاقات میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش جہانگیر عالم چودھری محسن نقوی وزیر داخلہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش جہانگیر عالم چودھری محسن نقوی وزیر داخلہ وزیر داخلہ بنگلہ دیش محسن نقوی
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔