صدر ٹرمپ کا شکریہ، معاہدے سے دیرپا شراکت داری کو وسعت ملے گی: وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ تاریخی تجارتی معاہدہ کامیابی سے طے پا گیا ہے جس کے لیے اتھاہ گہرائی سے صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
ایکس پر انہوں نے لکھا کہ معاہدے میں صدر ٹرمپ نے قائدانہ کردار ادا کیا، یہ تاریخی معاہدہ ہمارے بڑھتے ہوئے تعاون کو مزید فروغ دے گا۔
وزیراعظم نے یہ بھی لکھا کہ اس معاہدے سے آنے والے دنوں میں ہماری دیرپا شراکت داری کی حدود کو مزید وسعت دی جا سکے گی۔
ہمیشہ قومی مفاد میں معاشی سفارتکاری کو ترجیح دی: اسحاق ڈار
نائب وزیراعظم و وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ الحمدللہ، پاکستان کا امریکا کے ساتھ تاریخی معاہدہ طے پا گیا ہے، یہ بیان انہوں نےٹرمپ کی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پردی گئی پوسٹ کے جواب میں جاری کیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون، توانائی کے شعبے میں شراکت داری اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرے گا، پاکستان اپنی معاشی پوزیشن کومستحکم بنانے کی طرف گامزن ہے۔
انہوں نے وزیراعظم شہبازشریف کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پرپاکستان کا مقام ایک بارپھرمستحکم ہو رہا ہے، حکومت نے ہمیشہ قومی مفاد میں معاشی ڈپلومیسی کو ترجیح دی ہے اور یہ معاہدہ اسی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔
معاہدے کی تفصیلات آئندہ دنوں میں جاری کی جائیں گی تاہم حکومتی ذرائع کے مطابق یہ شراکت داری توانائی، بنیادی ڈھانچے اوربرآمدی مواقع کی وسعت میں کلیدی کردارادا کرے گی۔
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: شراکت داری
پڑھیں:
کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے آئندہ مالی سال کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی۔
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پائیڈ نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شواہد پر مبنی فریم ورک رپورٹ تیار کرلی، کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس طرح تنخواہوں میں 12.5 فیصد اضافہ ممکن ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے سے کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید بہتر ہوگی اور انہیں مہنگائی کے اثرات سے تحفظ مل سکے گا۔ پائیڈ کا کہنا ہے کہ اجرتی پالیسی کا اثر غربت، روزگار، گھریلو طلب اور مقامی معیشت پر براہِ راست پڑتا ہے، اس لیے کم از کم اجرت کا معاملہ اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود نہیں رہا۔
اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی، جبکہ اپریل 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
پائیڈ نے زور دیا ہے کہ اجرتوں کو مہنگائی اور موجودہ معاشی حقائق کے مطابق بنایا جائے تاکہ سماجی استحکام، غربت میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔